لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 319
319 محبت میں حقیقی بہنوں سے بڑھ گئیں۔ان کی اس مثالی دوستی کے گہرے نقوش ہمارے دلوں پر بھی ثبت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس بات میں بھی مماثلت پیدا کر دی کہ آپ کو اولاد بھی برابر دی۔یعنی سات بیٹے اور دو بیٹیاں۔حضرت آپا جان اور خاندان مبارک کے دیگر افراد انہیں ” بہن جی“ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے قدموں میں رہنے کا شرف بھی میرے پیارے والدین کو حاصل ہے۔آپ نے دار مسیح کے گول کمرہ میں حضرت پھوپھا جان ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کی معیت میں کچھ عرصہ قیام فرمایا۔فرمایا کرتی تھیں۔حضور علیہ السلام سے ملاقات کا روزانہ موقع ملتا۔عمر کے لحاظ سے فطری حیاء اس قدر غالب تھی کہ سلام کرنے کے علاوہ کوئی اور بات کرنے کی ہمت نہ پڑتی۔حضور پر نور از راہ شفقت خود ہی حال احوال دریافت فرمالیا کرتے۔آپ بہت مرتبہ حضرت اقدس علیہ السلام اور حضرت اماں جان کے ہمراہ اور خواتین کے ساتھ سیر کے لئے جایا کرتیں۔اوائل میں آپ کا جسم دبلا پتلا تھا۔بڑے بھائی جان ڈاکٹر احسان علی صاحب ایک صحت مند بچہ تھے۔آپ انہیں گود میں اٹھا کر چلنے سے تھک جایا کرتی تھیں اور واپسی پر بخار وغیرہ کی شکایت ہو جاتی۔سیر کے دوران حضرت سیدہ ام ناصر احمد یا کوئی اور خاتون مبارکہ کوشش کرتیں کہ بھائی جان ان کی گود میں آجائیں اور بسا اوقات انہیں زبردستی گود میں اٹھا کر بہت آگے نکل جاتیں تا بچہ والدہ کی نظروں سے اوجھل ہو کر بہل جائے۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے والدہ صاحب کو فر مایا کہ آپ کا جسم سیر کی کوفت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔۱۹۰۵ء میں جب حضور علیہ السلام اور دوسرے احباب شہر چھوڑ کر باغ میں تشریف لے گئے تو چونکہ حضرت والدہ صاحبہ کی طبیعت علیل تھی۔اس لئے آپ نے کچھ عرصہ بعد حضرت والد صاحب کو فرمایا کہ آپ انہیں شہر اپنے مکان میں لے جائیں۔جب بھائی جان کی پیدائش کی اطلاع دی گئی تو فوراً پوچھا کہ شہر چلی گئی ہیں۔حضرت والد صاحب نے عرض کی۔حضور کل ہی ہم گھر واپس آئے ہیں۔فرمایا۔بچہ کا نام ”احسان علی رکھیں۔پھر فرمایا۔علی اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسان کیا ہے۔حضرت والدہ صاحبہ نے ۱۹۰۹ ء میں وصیت کی۔آپ کا وصیت نمبر ۳۱۷ ہے۔آپ حد درجہ