لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 318 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 318

318 خدا وند کریم کا خاص الخاص فضل جو مجھے غریب پر ہوا وہ یہ ہے کہ جناب خواجہ نذیر احمد صاحب پسر خواجہ کمال الدین صاحب وکیل نے مجھے لوہے کی ایک بڑی وزنی الماری دی۔یہ الماری حضور نے خواجہ صاحب کے گھر میں رکھی ہوئی تھی۔جب حضور سیدنا مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں تشریف فرما ہوا کرتے تھے تو اپنے کاغذات اور کتا بیں اس میں بند کیا کرتے تھے۔یہ الماری مجھے مل گئی۔حضرت سیدنا خلیفہ اصسیح الثانی نے تصدیق کی کہ یہ وہی الماری ہے جو حضور نے خواجہ صاحب کے گھر میں رکھی ہوئی تھی اور اس میں حضور ا پنی کتا بیں اور کاغذات رکھا کرتے تھے۔اولاد کیپٹین ڈاکٹر بشیر احمد صاحب بٹ ولایت بیگم مرحومہ رانی، خالدہ مجید ڈاکٹر۔اہلیہ صاحبہ محترم ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر از قلم محترمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر صاحب) ولادت: انداز ا۱۸۹۰ء بیعت : ۱۹۰۳ ء وفات : ۲۔دسمبر ۱۹۶۴ء :١٩٠٣ء میری والدہ ماجدہ حضرت غلام فاطمہ صاحبہ اہلیہ حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر ( دختر ملک کمال الدین صاحب تلہ گنگ) صحابہ تھیں۔آپ ایک سال کی تھیں کہ آپ کے والد وفات پاگئے اور آپ اور آپ کی دو بہنیں اپنے خالہ زاد بھائی حضرت ابو امام الدین صاحب جہلمی ریلوے گارڈ کی کفالت میں آگئیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔انہوں نے اپنی بہنوں کی خوب پرورش کی۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ میں چھوٹی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے۔ایک کمرہ میں حضور علیہ السلام کی بیعت کرنے کیلئے خواتین جمع تھیں۔میں دروازے پر کھڑی تھی جب حضور علیہ السلام بیعت کے الفاظ ادا فرماتے تو میں بھی ساتھ ساتھ دوہراتی جاتی۔۱۳ ۱۴ برس کی عمر میں آپ کی شادی ہو گئی۔آپ قادیان تشریف لے آئیں۔حضرت دادی جان اپنی بہو کو لے کر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضرت ممدوحہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔بار بار تعریف فرمائی اور دستور کے مطابق شگن بھی ڈالا اور اس محبت و پیار کا سلسلہ تازیست قائم رکھا۔اللهم نور مرقدها - حضرت سیدہ ام ناصر احمد سے بھی ہم عمری کی وجہ سے پیارو