لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 275
275 اوصاف علی خاں۔حبیب اللہ خاں پر و فیسر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ۔عبدالمالک خاں مربی سلسلہ احمدیہ۔زبیدہ بیگم اہلیہ حکیم خلیل احمد مونگھیری۔محمد اسحق۔عبدالرحمن۔سعیدہ بیگم محمودہ بیگم۔رشیدہ بیگم۔راضیہ بیگم حضرت ماسٹر محمد حسن صاحب آسان دہلوی ولادت : ۱۸۹۰ ء بیعت : ۱۹۰۰ ء وفات : ۲۵۔اگست ۱۹۵۵ء از قلم محترم میاں مسعود احمد خاں صاحب اسٹنٹ ایڈیٹر الفضل) حضرت ماسٹر محمد حسن صاحب آسان دہلوی مرحوم دہلی کے ایک نامی بزرگ اور سلسلہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت حافظ وزیر محمد خاں محب اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیمی اور مخلص صحابی حضرت مولوی محمود الحسن خاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے۔۱۸۹۰ء میں جس سال آپ کے والد بزرگوار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اسی سال بمقام پٹیالہ آپ کی ولادت ہوئی۔اس لحاظ سے آپ پیدائشی احمدی تھے۔بعد میں آپ کو گیارہ سال کی عمر میں خطبہ الہامیہ کے وقت قادیان حاضر ہونے اور حضور علیہ السلام کی زیارت اور ارشادات سے مستفیض ہونے کا موقع ملا اور اس طرح آپ کو بھی صحابہ کے مقدس زمرہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے پٹیالہ میں ہی تعلیم حاصل کی اور بہت اچھے نمبروں میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔فارسی کی تعلیم اپنے والد محترم سے گھر پر حاصل کی۔چنانچہ اس میں کافی دسترس رکھتے تھے۔ملازمت کے سلسلہ میں اپنے وطن دہلی واپس آگئے اور پھر قیام پاکستان تک دہلی میں ہی رہے اور قیام پاکستان کے بعد بقیہ عمر لا ہور میں بسر کی۔اردو کے صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز تھے۔اللہ تعالیٰ نے تحریر اور تقریر کا خاص ملکہ عطا فر مایا تھا۔گفتگو اس قدر دلنشین اور مسحور کن ہوتی تھی کہ مخالف سے مخالف بھی رام ہوئے بغیر نہ رہتا۔مطالعہ بہت وسیع تھا اور حافظہ بھی بلا کا ودیعت ہوا تھا۔آپ نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو خدمت دین کے لئے وقف رکھا اور تبلیغ میں ان سے خوب ہی فائدہ اٹھایا۔مخالفین اسلام کے ساتھ صد ہا نہایت کامیاب مناظرے کئے اور جماعت میں اور جماعت سے باہر مختلف جلسوں اور مجلسوں میں سینکڑوں ہی لیکچر دیئے۔شاید ہی کوئی اتوار ایسی آتی تھی جس میں آپ کا کوئی نہ کوئی مناظرہ یا لیکچر نہ