لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 261 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 261

261 اسی جگہ شب باش ہوں۔حضور نے فرمایا کل ہماری دھار یوال میں تاریخ ہے اور ہمارے کھانے وغیرہ کا انتظام فلاں گاؤں میں پہلے سے ہے اس لئے مجبوری ہے۔مگر سردارنی نے بہت آزردہ خاطر ہو کر عرض کی کہ میرا دل آپ نے توڑ دیا ہے محض اس لئے کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں۔اگر آج میرے سردار زندہ ہوتے تو آپ ایسا نہ کرتے کیونکہ ہمارے خاندان اور آپ کے خاندان کے آپس میں ہر طرح تعلقات تھے۔تنبول وغیرہ اور با ہمی شادیوں اور غموں میں شرکت وغیرہ۔یہ باتیں سن کر حضرت نے فرمایا۔اچھا ہم رات یہاں ہی رہیں گے اور اگلے گاؤں میں ایک آدمی بھیج دیا کہ مولوی صاحبان اور وکیل کو بلا لائے۔چنانچہ وہ سب رات کو آگئے اور حضور رات بھر کا غذات متعلقہ مقدمہ کی دیکھ بھال میں معہ وکلاء اور مولوی صاحبان لگے رہے اور صبح دھار یوال پہنچ گئے۔جب ہم نے ظہر وعصر کی نمازیں جمع کیں تو پانچ بجے کا وقت ہوگا۔جب سردارنی نے شربت بھیجا تو ہم میں سے بعض نے عذر کیا کہ ہم روزہ سے ہیں۔حضور نے فرمایا۔سفر میں روزہ جائز نہیں۔بعض نے عذر کیا۔حضور ہمیں اس مسئلہ کا علم نہ تھا۔فرمایا۔روزہ چھوڑ دو اور شربت پی لو۔ایک شخص نے عرض کی حضور دن تو قریب الغروب ہے۔فرمایا یہ روزہ پھر بھی آپ کو رکھنا پڑے گا۔یہ کلمہ سنتے ہی ہم سب نے روزے چھوڑ کر شربت پی لیا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ میرے بھائی محترم محمد دین صاحب بھی صحابی تھے۔۱۹۰۰ء کے قریب کا ذکر ہے کہ جلسہ سالانہ نئے مہمان خانہ میں ہوا جو بعد میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب کا مکان بنا۔حضرت اقدس کی تقریر بہت لمبی ہو گئی تھی حتی کہ ایک بج گیا۔جمعہ کا روز تھا۔حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ایک بج گیا ہے۔مہمانوں نے کھانا بھی کھانا ہے۔اس لئے خطبہ جمعہ بالکل مختصر اور قرآت میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھیں۔یہ سن کر مہمان کچھ متنذ بذب سے ہو گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔حضور نے یہ محسوس کر کے فرمایا۔اچھا۔اوّل طعام بعد کلام۔پہلے کھانا کھا لو۔پھر جمعہ ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ کی ایک ہی بچی تھی جسے حکیم صاحب کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اپنے میکے لے گئی تھی۔پھر اس کا پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا کیا بنا۔حضرت حکیم صاحب’ طب جدید کے موجد تھے۔اس سلسلہ میں آپ کی کئی ایک تصنیفات بھی ہیں۔