لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 256
256 کسی عبرانی لغت سے لائک کے معنی دیکھئے۔مفتی صاحب نے لغت دیکھ کر بتایا کہ ” لا مک“ کے ایک معنی جمع کرنے والا ہیں۔اور حضرت مسیح بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کو جمع کرنے کیلئے آئے تھے۔یہ سن کر حضرت اقدس کو بہت خوشی ہوئی اور سجدہ بھی کیا۔حضرت چوہدری اله بخش صاحب مالک سٹیم پر لیس قادیان ولادت : ۱۸۷ء بیعت : ۱۸۹۸ء وفات : ۶ اکتوبر ۱۹۵۷ء عمر : ۷۰ سال حضرت چوہدری اله بخش صاحب رضی اللہ عنہ کو خاکسار اس وقت سے جانتا ہے جب کہ وہ قادیان میں سٹیم پریس کے ذریعہ سے سلسلہ کا لٹریچر شائع کیا کرتے تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے میری پہلی کتاب ”سید الانبیاء بھی استاذی المکرم حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلالپوری سابق پروفیسر جامعه احمد یہ قادیان نے انہی کے پریس سے شائع کروائی تھی۔اس زمانہ میں ان کا پریس محلہ دارالفضل قادیان میں تھا۔حضرت چوہدری صاحب چھوٹے قد کے تھے مگر جسم خوب مضبوط تھا۔تقسیم ملک کے بعد لاہور میں آگئے۔ان کی مالی حالت کمزور ہو چکی تھی۔کشمیری بازار میں بیٹھ کر سُرمہ فروخت کیا کرتے تھے مگر جب بھی ملاقات ہوتی تھی نہایت خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔میں نے کم از کم ان کی زبان سے کبھی ایک حرف بھی شکوہ روزگار پر مشتمل نہیں سنا۔آپ بہت پرانے صحابی تھے۔۱۸۹۸ء میں بیعت کی اور ۶۔اکتوبر ۱۹۵۷ ء کو ستر سال کی عمر میں فوت ہوۓ۔فانا لله وانا اليه راجعون۔اولاد : عطاء اللہ۔عبد المنان۔عنایت اللہ نعمت الله - صبغت اللہ۔عصمت اللہ حمید اللہ۔حفیظ اللہ۔فقیر اللہ۔امۃ الرحمن۔امتہ المنان۔امتہ الکریم مرحومہ۔حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب ولادت : ۱۸۸۶ء بیعت : ۱۸۹۸ء وفات : ۱۷۔مارچ ۱۹۶۱ء عمر : ۷۵ سال حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب ملیاں ضلع امرتسر کے باشندہ تھے۔ان کے والد محترم کا نام حضرت میاں محمد بخش صاحب تھا۔وہ ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔حضرت منشی صاحب قادیان میں مڈل پاس کرنے کے بعد پٹواری ہو گئے تھے۔ریٹائر ہونے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی زمینوں پر سندھ میں بطور مینجر کام کرتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانخانہ میں