لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 161
161 کے بعد فیصلہ ہوا کہ عالی ہمت بھائی یا بھائیوں سے سردست قرضہ لیا جائے اور رفتہ رفتہ ہم ادا کریں۔انشاء اللہ جلد ادا ہو جائے گا۔میرے دل میں آیا کہ آپ کی طرف لکھا جائے۔جس طرح ممکن ہو آپ سات سو روپے بواپسی ارسال کرنے کی فکر یا انتظام کریں۔اس میں توقف نہ ہو۔بڑا کار ثواب ہے۔والسلام۔خاکسار عبدالکریم بعد کی خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قریشی صاحب نے روپے کا فوراً انتظام کر کے بھجوا دیا تھا چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں: ” میر ا قلب گواہی دیتا ہے کہ تمام بھائیوں کی نسبت آپ میں خاص اخلاص اور پستی ہے خدا تعالیٰ آپ کے اخلاص اور توجہ کی جزا ہو۔۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت قریشی صاحب کی لڑکی زینب تقریباً ہم عمر تھیں۔بچپنے میں جب تیاری لباس کی ضرورت پیش آتی تو حضور قریشی صاحب کی بچی کے ناپ پر حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے لئے کپڑے تیار کر وا لیتے تھے۔چنانچہ حضور ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں : محبی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس وقت بتا کید والدہ محمود لکھتا ہوں کہ آپ مبارکہ میری لڑکی کے لئے ایک قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے قیمت سے زیادہ نہ ہو۔گوٹہ لگا ہوا ہو۔عید سے پہلے تیار کر وا کر بھیج دیں۔رنگ کوئی ہو۔مگر پارچہ ریشمی یا جالی ہو۔اندازہ قمیص کا آپ کی لڑکی زینب کے اندازہ پر ہو۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ۔۱۴۔فروری ۱۹۰۴ء مارچ ۱۹۰۷ء میں قریشی صاحب کی یہ لڑ کی قضائے الہی سے وفات پاگئی۔حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا گیا۔لیکن حضور کو قبل از وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے افسوسناک خبر آنے کی اطلاع مل چکی تھی۔۲۰۔فروری ۱۹۰۷ء کو حضور کو الہام ہوا افسوسناک خبر آئی ہے حضور نے فرمایا: اس الہام پر ذہن کا انتقال بعض لاہور کے دوستوں کی طرف ہوا۔۲۰ چنانچہ اس بچی کی وفات کی خبر حضور کو بھیجی گئی تو حضور نے قریشی صاحب کو لکھا: