لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 157 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 157

157 چونکہ سخت گیر واقع ہوئے تھے اس لئے آپ کو احمدیت قبول کرنے کے بعد تکالیف بھی بہت برداشت کرنا پڑیں مگر آپ کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئی۔آپ کی شادی لاہور کے ایک تاجر گھرانے میں ہو چکی تھی۔بیوی سے جب آپ نے اپنی احمدیت کا ذکر کیا تو اس نے بھی سرتسلیم خم کیا اور احمدیت قبول کر لی۔آپ کی سوتیلی والدہ اور والد صاحب نے آپ کو گھر سے نکال دیا۔مگر پروردگار عالم نے اس بے یار و مددگار نوجوان کے اخلاق کو نوازا اور آپ کو بہت جلد قریشی بلڈنگ جیسا شاندار مکان بنانے کی توفیق عطا فرمائی اور آپ کے مخالف آپ کے اقبال کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔لاہور سے باہر کے بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ آپ حافظ قرآن بھی تھے۔جوانی کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کیا اور عمر بھر نماز تروایح میں سناتے رہے۔آپ ایک لمبا عرصہ جماعت لاہور کے جنرل سیکرٹری رہے اور ۱۹۲۴ء میں جب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کچھ عرصہ کے لئے یورپ تشریف لے گئے تو امارت کے فرائض بھی آپ ہی سرانجام دیتے رہے اور اسی عرصہ میں آپ نے لاہور کی مسجد احمد یہ تعمیر کروائی جو بیرون دہلی دروازہ میں واقع ہے۔جناب شیخ غلام قا در صاحب کا بیان ہے کہ جس احاطہ میں مسجد بنی یہ احاطہ حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کی ملکیت تھا۔اور شیخ عبدالرحیم، شیخ عبد القادر اور شیخ غلام قادر صاحبان آف گوجرانوالہ نے کرایہ پر لے کر چمڑے کا گودام بنایا ہوا تھا۔جماعت نے یہ احاطہ دس ہزار رپے میں خرید لیا۔جس میں سے پانچ ہزار روپے کی ایک خطیر رقم محترم شیخ شمس الدین صاحب تاجر چرم نے بطور چندہ ادا کی تھی۔مسجد کی تعمیر میں یوں تو ساری جماعت نے حصہ لیا۔لیکن حضرت قریشی صاحب گویا اس کام کے اصل انچارج اور روح رواں تھے۔جناب شیخ عبدالرحیم صاحب سیکرٹری اور حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب نگران تھے۔نقشہ حضرت میاں محمد صاحب نے بنایا تھا اور وہ آکر اس بات کی کڑی نگرانی کرتے تھے کہ عمارت نقشہ کے مطابق بن رہی ہے یا نہیں۔حضرت قریشی صاحب اور آپ کے ساتھی مسجد میں آ کر مزدوروں کی طرح کام کرتے تھے۔چنانچہ دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ حضرت قریشی صاحب اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی فرماتے ہیں کہ یہ احاطہ تھا تو حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کا ہی۔مگر ان سے سید نادرشاہ صاحب جہلمی نے انداز اساڑھے گیارہ ہزار میں خرید لیا تھا۔پھر ان سے جماعت نے اسی قیمت پر خرید لیا۔