لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 141 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 141

141 ملازمت اختیار کی۔ابھی اس ملازمت پر دو ہی سال گزرے تھے کہ آپ ٹائپ کا کام سیکھ کر ریلوے کی ٹی۔ایس برانچ میں ملازم ہو گئے۔اس عرصہ میں آپ کی رہائش اندرون بھاٹی گیٹ ایک بیٹھک میں تھی۔جس میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور ایک اور دوست بھی رہتے تھے۔ڈاکٹر صاحب موصوف بھی ان دنوں بیعت کر چکے تھے اور احمدی جماعت میں شمار ہوتے تھے۔۱۹۰۲ء میں آپ کی اہلیہ صاحبہ کا گوجرانوالہ میں انتقال ہو گیا۔جس پر آپ نے اپنے بچوں اور ان کی نگہداشت کیلئے اپنی والدہ محترمہ اور اپنی بیوہ بہن رحیم بی بی کو بھی لاہور میں بلوالیا۔۱۹۰۹ ء تک آپ کی رہائش بسلسلہ ملازمت لاہور میں رہی۔اس عرصہ میں آپ وقتاً فوقتاً حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے قادیان بھی جاتے رہے اور جب حضور لاہور میں تشریف لاتے تو دفتر کے بعد سید ھے آپ حضور کی فرودگاہ پر حاضر خدمت ہو جاتے۔۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو بھی دفتر سے سیدھے احمد یہ بلڈ نگکس پہنچے اور سارا دن وہاں رہے۔۲۶ مئی کو ہندوؤں کے ایک تہوار بھدر کالی کی وجہ سے چھٹی تھی۔اس لئے دفتر بند ہونے کی وجہ سے رخصت حاصل کرنا مشکل تھا۔اس وجہ سے حضرت اقدس کی نعش کے ساتھ قادیان نہ جا سکے۔دوسرے دن ۲۷ مئی کو دفتر سے رخصت حاصل کر کے قادیان پہنچے اور حضرت اقدس کے جنازہ میں شامل ہو گئے۔حضرت خلیفہ امسیح لا ول رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی کی اور دوسرے دن واپس لا ہور آ گئے۔اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ۱۹۰۹ء تک آپ نے لاہور میں ملازمت کی۔بعد ازاں آپ نے اس ارادہ سے استعفاء دے دیا کہ آپ اپنے ایک نسبتی بھائی میاں عبدالکریم صاحب ابن میاں نبی بخش صاحب رئیس راولپنڈی کے ساتھ بیرسٹری کرنے انگلستان جانا چاہتے تھے۔مگر بمبئی پہنچ کر اس وجہ سے واپس آ گئے کہ میاں نبی بخش صاحب موصوف یہ چاہتے تھے کہ اپنی لڑکی کی شادی بہت جلد شیخ صاحب کے ساتھ کر دیں۔چنانچہ اس وجہ سے لڑکی کے بھائی میاں عبدالکریم صاحب بھی ولایت جا کر جلد ہی واپس آگئے۔مگر بعد میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے فتوی کی رو سے وہ لڑکی بوجہ رضاعی بھتیجی ثابت ہونے کے آپ کے عقد میں نہ آسکی۔1910ء میں آپ ملتان پہنچے اور اپنے ایک ماموں زاد بھائی شیخ قادر بخش صاحب کے ساتھ مل کر پیپرمنٹ کی تکیہ کا کارخانہ قائم کیا اور فرم کا نام ڈھنگڑہ ہاؤس کنفکشنری ورکس رکھا گیا۔یہ نام حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل کی منظوری سے رکھا گیا۔بعد ازاں جب