لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 136
136 ایک دن کی بھی رخصت ہوتی تو راتوں رات قادیان پہنچ کر وہ دن قادیان میں گزارتے۔حضرت مولانا حکیم صاحب اور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب بھی ان سے بہت ہی محبت سے پیش آتے اور یہ بھی ان پر فدا تھے۔چنانچہ جب حضرت مولانا عبدالکریم صاحب آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو محترم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگم صاحب تین ماہ کی رخصت پر قادیان ہی میں تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ دو ماہ مجھے ان کی خدمت کا خوب موقع ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۵ء میں جو وفد چولہ بابا نانک صاحب سے متعلق تحقیقات کے لئے ڈیرہ بابا نانک صاحب بھیجا تھا وہ لاہور ہی کے چار احباب پر مشتمل تھا۔یعنی جناب مرزا یعقوب بیگ صاحب حضرت منشی تاج الدین صاحب اکو نٹنٹ دفتر ریلوے لا ہور جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب میاں عبدالرحمن صاحب لاہوری۔ان چاروں نے قادیان جا کر حضرت اقدس کی خدمت میں یہ رپورٹ کی کہ واقعی ڈیرہ بابا نانک میں ایک چولہ موجود ہے جس پر کلمہ طیبہ اور قرآن کریم کی کئی ایک آیات لکھی ہوئی ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ اس چولہ کو حضرت بابا نانک صاحب کے مسلمان ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا تھا اس لئے اس اہم ذمہ داری کے پیش نظر بعد میں حضور نے بعض احباب کی معیت میں ۳۰۔ستمبر ۱۸۹۵ء کوخود بھی ڈیرہ بابا نانک کا سفراختیار کیا تھا اور اس سفر میں بھی لاہور کے احباب میں سے جناب شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی اور جناب مرزا ایوب بیگ صاحب شامل تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام آپ کو حضرت ام المومنین اور دیگر اہل بیت کی بیماری کے علاج کیلئے عموماً لا ہور سے بلا لیتے تھے اور حضور خود آخری بیماری سے لاہور میں بیمار ہوئے تو اس وقت بھی آپ کو بلانے کا حکم دیا۔غرض آپ نے زندگی بھر نہایت ہی اخلاص سے کام کیا مگر افسوس کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول کی وفات پر آپ غیر مبائعین کے گروہ میں شامل ہو گئے۔انجمن حمایت اسلام لاہور کی بھی آپ نے زندگی بھر خدمت کی۔مگر جب فروری ۱۹۳۶ء میں انجمن کے ممبروں خصوصاً مولوی احمد علی صاحب نے آپ کو احمدی ہونے کی وجہ سے انجمن کی ممبری سے خارج کروا دیا تو آپ کو سخت صدمہ پہنچا اور گھر پہنچتے ہی بیماری کا ایسا حملہ ہوا کہ اس سے جانبر نہ ہو سکے اور دو تین روز کے اندر ہی ۱۲۔فروری ۱۹۳۲ء کو وفات پاگئے۔فانا لله وانا اليه راجعون۔