لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 121 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 121

121 سے قبل ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے اپنے اس ارادہ کا ذکر کیا تو ڈپٹی کمشنر نے اس کو بہت سخت اقدام قرار دیا۔اس لئے اسے مجبور أجرمانہ کی سزا پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔۱۵۔حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ حضرت اقدس کا بے حد ادب کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضور جب کبھی کوئی مسئلہ حضرت مولوی صاحب سے دریافت کرتے تو حضرت مولوی صاحب نہایت سادگی سے جواب عرض کر دیتے۔لیکن اگر حضور اس کے برعکس کوئی بات بیان فرماتے تو حضرت مولوی صاحب بھی فوراً اس کی تائید شروع کر دیتے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز با جماعت میں شریک تھے۔قعدے میں حضور پر ایسی محویت طاری ہوئی کہ جب تک امام نے کھڑے ہوئے کر قرآت ختم نہیں کی آپ نہیں اٹھے۔جب امام رکوع میں گیا تو آپ شامل ہو گئے۔نماز ہو چکنے کے بعد علماء سے آپ نے مسئلہ دریافت فرمایا کہ نماز ہوئی یا نہیں ؟ علماء کا فتویٰ یہی تھا کہ نماز نہیں ہوئی۔جب حضرت مولوی صاحب سے دریافت فرمایا تو آپ نے بھی علماء سے اتفاق کیا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ نماز ہوگئی ہے۔یہ سن کر حضرت مولوی صاحب نے بلا تو وقف عرض کی کہ ہاں حضور ہوگئی۔حضرت مولوی صاحب حضور کے علم کے سامنے اپنے تمام علوم کو بیچ سمجھا کرتے تھے۔حتی کہ علم طب کو بھی چھوڑ دیتے تھے۔ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔میں بھی حضرت مولوی صاحب کے پاس مطب میں بیٹھا تھا۔بعض اور لوگ بھی تھے کہ حضرت ام المومنین کے ملازم نے آ کر کہا کہ حضرت اماں جان کی طبیعت علیل ہے۔فرماتی ہیں کہ آپ آ کر فصد کھو لیں۔حضرت مولوی صاحب نے کہلا بھیجا کہ اس بیماری میں اس وقت فصد کھولنا سخت مضر ہے اماں جان نے پھر آدمی بھیجا کہ مجھے سخت تکلیف ہے ضرور فصد کھول دیں حضرت مولوی صاحب نے پھر وہی جواب دیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب جن کی عمر اس وقت کوئی گیارہ سال تھی تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے مصافحہ کیا ماتھے پر بوسہ دیا اور فرمایا میاں کیسے آئے ہو حضرت صاحبزادہ صاحب نے عرض کیا کہ ابا جان نے بھیجا ہے کہ اماں جان سخت بیمار ہیں آپ آ کر فصد کھول دیں۔حضرت مولوی صاحب فوراً نشتر وغیرہ لے کر اٹھے اور جا کر فصد کھول دی جب آپ واپس تشریف لائے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت! آپ تو فرماتے تھے کہ اس بیماری میں فصد کھولنا درست نہیں ہے پھر کھول بھی آئے فرمایا۔پہلے تو طبی مشورہ تھا۔پھر جب حضرت کا حکم آ گیا تو وہاں