لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 616
616 زمانہ میں خدام کی غفلت وکوتا ہی پر انہیں بیدار رکھنے کے لئے مختلف بدنی سزائیں بھی دی جاتی تھیں۔جنہیں خدام الاحمدیہ کے دستور کی اصلاح میں ” ذریعہ اصلاح کہا جاتا ہے۔تبلیغ کا شوق رکھتے ہیں۔مخالف علماء سے کامیاب مباحثوں کا موقعہ بھی ملا ہے۔۱۹۴۷ء کی قیامت صغریٰ میں آباد کاری اور الاٹمنٹ کے سلسلہ میں جماعت کی خدمت کی توفیق بھی پائی۔پاکستان سے جو قافلہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کیلئے جاتا ہے۔ایک دو مرتبہ اس کے امیر بھی رہے ہیں۔قانونی موشگافیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور لاہور کے کامیاب وکلاء میں شمار کئے جاتے ہیں۔تقریر بھی اچھی کر لیتے ہیں۔لیکن انداز گفتگو سادہ ہوتا ہے۔اس دور میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بھی تعلیم کے سلسلہ میں لا ہور میں مقیم تھے اور مجلس خدام الاحمدیہ کے سرگرم کارکن رہ چکے ہیں۔خواجہ محمد اکرم صاحب مکرم خواجہ محمد اکرم صاحب کو بھی کچھ عرصہ بحیثیت قائم مقام قائد کام کرنے کا موقعہ ملا۔مہاجرین کی خدمت اور جلسہ سالانہ ( لاہور ) کے انتظامات میں کام کرنے کی توفیق پائی۔میاں عبدالمنان صاحب لاہور کی میاں فیملی کے فرد ہیں۔تقسیم ملک کے بعد مجلس کی حالت منتشر تھی۔تنظیم کو از سرنو مضبوط کرنے کا ابتدائی موقعہ ملا۔حلقہ جات میں دورے کرتے رہے۔ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب شمع خلافت کے پروانوں میں سے ہیں۔تہجد گزار بے نفس کام کرنے والے خلوص و قربانی کے پیکر بزرگ خادم ہیں۔خوش بخت ہیں کہ عرصہ تک حضرت مصلح موعودؓ کے ڈینٹل سرجن رہے ہیں۔محترم ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب کو ۱۹۵۳ء میں بھی کام کرنے کا موقعہ ملا ہے جبکہ علماء نے عوام کو جماعت احمدیہ کے خلاف برگشتہ کر کے ظلم وستم پر آمادہ کیا تھا، حکومت کو مارشل لاء لگانا پڑا اور احمدیوں کے جان و مال خطرہ میں تھے۔اس حالت میں احمدی نوجوانوں کے فرائض اور پھر ان کے قائد کے فرائض کتنے بڑھ جاتے ہیں۔محترم ڈاکٹر صاحب ان سب مراحل سے کامیاب گزرے ہیں۔۱۹۵۳ء کی قیامت خیز بارش میں ڈاکٹر صاحب کی زیر قیادت لاہور کے خدام کو بنی نوع انسان کی خدمت کا موقعہ ملا ہے۔۶۱ - ۱۹۶۰ء میں