لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 57 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 57

57 کہ کیا کوئی کتاب الہامی ہوسکتی ہے۔اگر ہو سکتی ہے تو کونسی؟،، ۳۳ آریہ سماج کے سیکرٹری نے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی نہایت عاجزانہ رنگ میں متعدد خطوط لکھے تھے کہ آپ بھی ضرور اس میں شامل ہوں مگر حضور کو چونکہ سابقہ تجربہ کی بناء پر یقین تھا کہ آریہ قوم کے لوگ اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بد زبانی اور دشنام طرازی سے باز نہیں رہ سکتے۔اس لئے ابتداء حضور نے اس کا نفرنس میں شرکت کرنے سے معذوری کا اظہار فر ما دیا تھا۔مگر بعد ازاں محترم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم کی درخواست اور آریوں کے اس اقرار پر کہ قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کے خلاف کوئی دلآزار بات نہیں کہی جائے گی۔رضا مندی کا اظہار فرما دیا تھا۔چنانچه ۲ دسمبر 19۷ء کو دس بجے صبح اس کا نفرنس میں شامل ہونے کے لئے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کی امارت میں ایک وفد روانہ فرمایا جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت میر ناصر نواب صاحب ، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، محترم ابوسعید صاحب عرب کے علاوہ اور بھی کئی ایک اصحاب شامل تھے۔جو مضمون حضور نے اس موقعہ پر پڑھنے کیلئے دیا وہ گو بہت عجلت میں لکھا گیا تھا مگر جناب الہی میں ایسا مقبول ہوا کہ جب مضمون ختم ہوا تو حضور کو الہام ہوا۔رض انهم ماصنعوا هو كيد ساحرٍ ولا يفلع الساحر حيث اتى۔انت منى بمنزلة رُوحِي - انت منی بمنزلة النَجْمِ الثَاقِبُ - جَاء الحَقُّ وَزَهُق الباطل - یعنی جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگر کی تدبیر ہے۔اور جادو گر کسی راہ سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوگا۔تو مجھ سے بمنزلہ میری روح کے ہے۔تو مجھ سے بمنزلہ اس ستارے کے ہے جو قوت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔۳۴ یہ مضمون سنانے کے لئے حضور نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کو ہی مقر فر ما یا مگر ساتھ یہ اجازت بھی دی کہ اگر مولوی صاحب اسے مکمل طور پر نہ سناسکیں تو بقیہ مضمون ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سنا دیں اس مضمون کے لئے منتظمین جلسہ نے ۳ دسمبر ۱۹۰۷ء کی شام کو ۸ بجے سے ۱۰ بجے تک کا وقت مقرر کر رکھا تھا مگر حضرت اقدس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر لوگ ۵ بجے سے ہی آنا شروع ہو گئے تھے۔اور جب حضرت اقدس کا لیکچر شروع ہوا تو اس قدر مخلوق کا ہجوم تھا کہ آریہ سماج کے مندر میں