لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 415 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 415

415 چوتها باب منکرین خلافت کی ناپسندیدہ روش اور دربار خلافت سے ملامت گذشتہ صفحات میں ان تمام صحابہ کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔جن کا کسی نہ کسی رنگ میں لاہور کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو لا ہور کے باشندے تھے انہوں نے لاہور میں ہی بیعت کی اور لاہور میں ہی اپنی عمر گزار کر وفات پائی۔بعض وہ ہیں جنہوں نے لاہور میں بیعت کی اور کچھ زمانہ یہاں گزار کر باہر چلے گئے اور باہر ہی وفات پائی۔بعض وہ ہیں جنہوں نے لاہور سے باہر بیعت کی مگر ایک زمانہ کے بعد لاہور آ کر آباد ہو گئے۔اس قسم کے اصحاب تقسیم ملک کے بعد کافی تعداد میں لاہور آئے۔بعض ایسے بھی ہیں جو باہر سے تشریف لائے اور ایک زمانہ یہاں گذار کر پھر باہر ہی چلے گئے۔بعض ممتاز صحابہ کی تنظیمی سرگرمیاں واضح رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ مسیح الاول کے زمانہ تک جماعت میں اس قسم کی تنظیم قائم نہیں ہوئی تھی جیسی کہ خلافت ثانیہ میں قائم ہوئی۔خلافت ثانیہ سے قبل جماعت میں نہ تو چندوں کی کوئی شرح مقرر تھی اور نہ مختلف شعبوں کے لئے مختلف عہد یدار مقرر تھے۔صرف ایک سیکرٹری ہوا کرتا تھا جو سارے کام کرتا تھا۔مالی قربانی کے متعلق جماعت کو اتنی تلقین ضرور کی جاتی تھی کہ جتنا چندہ کوئی لکھوائے اسے ماہ بماہ با قاعدگی کے ساتھ ادا کیا کرے تا جماعتی کاموں میں رخنہ نہ پڑے مگر بعض لوگ اس قسم کے فدائی بھی تھے کہ قوت لایموت سے جو کچھ بچتا تھا وہ سب حضرت اقدس کی نذر کر دیا کرتے تھے۔جماعت لاہور میں چندوں کی وصولی کا انتظام عموماً حضرت قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا اور وہی سیکرٹری کہلاتے تھے۔سیکرٹری تبلیغ کی ابتدائی زمانہ میں اس لئے ضرورت نہ تھی کہ جماعت کے سارے افراد بلا استثناء فریضہ تبلیغ کو فرض عین جانتے تھے مگر