لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 334 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 334

334 احمدی ہے بڑا ہو کر خود بخود ٹھیک ہو جائے گا میں حضور کے ہاتھ پر خود بھی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔اس پر حضور نے میری بیعت لے لی۔۱۹۴ء میں جب حضور لاہور میں تشریف لائے تو حضرت میاں چراغ دین صاحب کے مکان میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو ٹھہرایا اور حضور نے خود حضرت میاں معراج دین صاحب عمر کے مکان میں قیام فرمایا۔لیکچر لاہور بھی حضور نے یہاں ہی لکھا تھا۔ان دنوں ایک شخص برقعہ پہن کر آیا کرتا تھا۔اور کوشش کرتا تھا کہ موقعہ ملے تو اوپر جا کر حضور پر قاتلانہ وار کرے۔میری والدہ حیات بیگم صاحبہ مرحومہ نے لاہور کے قیام میں حضرت مسیح موعود سے اجازت لی ہوئی تھی کہ حضور کی خوراک وہ اپنے ہاتھ سے تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا کرے۔ان دنوں بھی میری والدہ حضور کا کھانا اور ناشتہ خود تیار کر کے میرے ہاتھ بھیجا کرتی تھی۔ایک دن دو پہر کا کھانا جو میں حضور کی خدمت میں پیش کر کے واپس اپنے گھر پہنچا تو میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں حضور کے مکان کی سیڑھیوں پر پہرہ دوں۔ابھی میں پہنچا ہی تھا کہ وہ برقعہ پوش شخص سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔میں نے آواز دی کہ یہ کون عورت ہے؟ اوپر آنے کی اجازت نہیں۔مگر وہ آتا ہی گیا اور میرے قریب آ کر مجھے دھکا دے کر اوپر چڑھنا چاہا۔۔اس کے پاس تیز لمبا چھرا تھا جس کا سرا میرے پیٹ میں آلگا۔میں نے شور مچایا اور وہ بھاگ گیا۔والد صاحب دوڑے آئے اور مجھے زخمی دیکھ کر اٹھا لیا۔اتنے میں حضرت اقدس کو بھی معلوم ہو گیا۔حضور نے مجھے اوپر طلب فرما لیا اور خون بہتا دیکھ کر اپنی پگڑی کا سرا پھاڑ کر اسے ایک گول سا گیند بنا کر میرے پیٹ کے زخم پر رکھ دیا اور اس کے اوپر اپنی پگڑی لپیٹ دی اور مجھے اپنی چار پائی پر لٹا دیا۔بارہ بچے کا سویا ہوا میں پانچ بجے عصر کے وقت جا گا۔اٹھ کر تیم سے نماز پڑھی۔حضور نے مجھ سے حال پوچھا۔پھر والد صاحب مجھے اٹھا کر گھر لے آئے۔خدا کی قدرت کہ وہ زخم بہت جلد مندمل ہو گیا۔میرے والد صاحب اور دوسرے دوستوں نے چاہا کہ اس کی رپورٹ پولیس میں کی جائے مگر حضور نے فرمایا۔خدا خود اس سے بدلہ لے گا۔ان ایام میں حضور نے موجودہ مسجد احمدیہ کے بالمقابل جو احاطہ میاں چراغ دین کہلاتا تھا۔اس میں کئی ایک تقریریں فرمائیں جو بعد میں تقریروں کا مجموعہ“ کے نام سے شائع کی گئیں۔۱۹۰۸ء میں جب حضور آخری مرتبہ لاہور تشریف لائے تو اس سے قبل قادیان میں خواجہ کمال