لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 162 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 162

162 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم مجی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج کے خط سے واقعہ معصومہ زینب پر اطلاع ہوئی۔انالله و انا اليه راجعون۔خدا تعالیٰ آپ کو معہ اس کی والدہ کے صبر بخشے اور بعد میں ہر ایک بلا سے بچاوے۔آمین۔دعا تو بہت کی گئی تھی مگر تقدیر مبرم کا کیا علاج ہے۔میں نے پہلے اس سے دیکھا تھا یعنی الہام ہوا تھا کہ لاہور سے ایک خوفناک خبر آئی۔اس الہام کو میں نے اخبار میں شائع کر دیا تھا۔سو وہ بات پوری ہوئی اور اب صبر کریں۔خدا تعالیٰ صبر پر اس کا اجر دے گا۔والسلام مرز اغلام احمد عفی عنہ۔۲۰۔مارچ ۱۹۰۷ء اپنوں اور غیروں میں آپ کا مقام حضرت قریشی صاحب نیکی، حق گوئی، امانت، دیانت اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کی وجہ سے اپنوں اور غیروں میں برابر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔یہاں تک کہ محلہ کے غیر مسلم بھی نجی جھگڑے مشترک تجارت اور رشتہ داری کے فسادات وغیرہ سبھی قسم کی الجھنیں آپ سے دور کر وایا کرتے تھے۔لین دین کے معاملات میں صفائی لین دین کے معاملات میں صفائی کا اس قدر اہتمام فرماتے تھے کہ آپ کے صاحبزادہ قریشی محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ : ایک دفعہ ایک ہند وصراف سے ایک باہر کے دوست کو اس شرط پر زیور لے کر دیا کہ اگر زیور ان کے گھر میں پسند آ گیا تو قیمت ورنہ زیور فلاں دن فلاں وقت واپس کر دیں گے۔لیکن جب وہ زیور مقرر وقت پر واپس نہ آیا تو آپ نے چپکے سے اس صراف کو قیمت ادا کر دی اور جب بعد میں وہ زیور آیا تو اسے دوسرے صراف کے پاس گھاٹے میں بیچ دیا۔بعد ازاں جب زیور دینے والے صراف کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے گھر میں آ کر عرض کی کہ آپ نے معاہدہ کا ایک دن کیوں نہ بڑھوا لیا۔خواہ مخواہ گھاٹا برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ مگر قریشی صاحب نے جواب دیا کہ مسلمان اپنے عہد کا پابند ہوتا ہے لہذا اس