تاریخ افکار اسلامی — Page 290
تاریخ افکا را سلامی ٢٩٠ غلو پسند خارجی فرقے ا الْحَفْصِيَّة اباضی خوارج کا یہ ایک ذیلی فرقہ تھا۔حضرت علی کے بعض میں دیوانگی کی حد تک بڑھا ہوا تھا اُس کا دعوی تھا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْجِكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ الذ الْخِصَامِ لے کی آیت علی کے بارہ میں نازل ہوئی تھی اور آیت و مِنَ النَّاسِ مَنْ نَشْرِئَ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہ نے علی کے قاتل ابن علیم کی شان میں اتری۔اس فرقہ کا یہ نظریہ بھی تھا کہ جسے معرفت الہی حاصل نہیں وہ مشرک ہے اور جسے معرفت الہی تو حاصل ہے لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کو نہیں مانتادہ کافر ہے۔کے -١٢- الْيَزِيدِية یہ بھی اباضی خارجیوں کا ایک ضمنی فرقہ تھا۔بڑ اغلو پسند اورفتنہ پرداز گردہ۔اس کا عقیدہ تھا کہ آخری زمانہ میں عجم سے ایک نبی مبعوث ہو گا جو نئی شریعت لائے گا اور شریعت محمدیہ کو منسوخ کر دے گا۔کے اس فرقہ کا یہ نظر یہ بھی تھا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی مانتا ہے اگر چہ آپ کی لائی ہوئی شریعت کو نہ مانے وہ مومن اور مسلمان ہے۔١٣- الْمَيْمُونِيه میمون خارجی کے پیرو۔یہ میمون اُس میمون اور اس کے فرقہ سے الگ ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے اور جس کا ابراہیم خارجی کے ساتھ ایک لونڈی کے فروخت کے ضمن میں جھگڑا ہوا تھا اور جس کی وجہ سے اباضیوں کے تین فرقے ابراہیمیہ۔میمونیہ اور واقفیہ بن گئے تھے۔یہ میمون وہ ہے جس کا جھگڑا شعیب خارجی سے قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہوا تھا اور جس کی وجہ سے دو فرقے شعیبیه اور میمونیہ بن گئے۔ھے بہر حال اس میمونیہ فرقہ کا نظریہ یہ ہے کہ پوتیوں اور نواسیوں وغیرہ سے نکاح جائز ہے کیونکہ البقرة : ۲۰۵ البقرة : ٢٠٨ الفرق بين الفرق صفحه ا الفرق بين الفرق صفحه ۲۱۱ ۵۔صفحہ ۱۹۶ بھی دیکھیں