تاریخ افکار اسلامی — Page 267
تاریخ افکا را سلامی النزاريه الحسن بن الصباح کی تحریک اور آغا خانی اسماعیلی آٹھویں فاطمی خلیفہ المستعصر کی وفات کے بعد اُس کے جانشین کے بارہ میں نزاع پیدا ہو گیا۔خود المستعصر نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس کا جانشین اس کا بڑا بیٹا ابو منصور جوار بنے لیکن وہ اپنی اس خواہش کو بوجوہ پورا نہ کر سکا اور اُس کی وفات کے بعد اس کے وزیر الافضل نے اکثر امرا ء اور حکام کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ توار کی بجائے اُس کے چھوٹے بھائی ابو القاسم احمد المُسْتَعْلِی بِاللہ کی بیعت کی جائے چنانچہ مُسْتَعْلِی بِالله نواں خلیفہ منتخب ہو گیا۔بعض امراء نے اس تبدیلی کا بُرا منایا اور انہوں نے جوار کی تائید کی لیکن کامیابی نہ ہوئی اور خوار کو گرفتار کر کے دیوار میں چنوا دیا گیا بہر حال جرار کے حامیوں میں الحسن بن صباح لے بھی تھا۔اُس نے دعوت بزاریہ کے لئے تحریک چلائی اور ایران کے محفوظ پہاڑوں میں اپنا مرکز بنایا یہ ۴۸۳ ھ کا واقعہ ہے۔یہاں سے دعوت مُسْتَغلِیہ کے مقابلہ میں دعوت نزاریہ کا آغاز ہوا۔اس نظریہ میں امام مستور کی طرف دعوت ایک مرکزی نقطہ تھا۔الحسن بڑا عالم اور فلسفہ کے عملی پہلوؤں کا ماہر اور اعلیٰ تنظیمی قابلیتوں کا مالک تھا۔مکے اس نے اس علاقہ میں رہنے والے اسماعیلیوں کو منظم کیا۔دعاۃ کے ایک نئے سلسلہ کا آغاز کیا۔اپنے حامیوں کی تربیت کے محفوظ مراکز قائم کئے۔رودبار، کوہستان اور طالقان جو خراسان کے پہاڑی علاقے تھے۔ان میں سینکڑوں قلعے بنوائے اور عسکری انداز کی گروہ بندی کی۔شام کی طرف بھی اپنے داعی بھیجے اور حسب حالات چُھپ کر یا کھلے بندوں سلجوقیوں اور مستعلیوں پر چھاپے مارنے کی منصوبہ بندی کی۔الحسن بن على المعروف بالصباح هو فارسى مِنْ خُرَاسَانَ تَعَلَّم مع الشاعر الفيلسوف عمر الخيام ونظام الملک وزیر السلطان ملک شاه وانقطع حيناً لدرس الكيمياء۔۔۔۔وسخط عليه نظام الملک بوجوه ففر ناجيا ونزل بمصر فاحسن خليفتها المستنصر الفاطمي وامره بدعاء الناس إلى امامته واتصل باساتذة دار الحكمة (تاريخ الجميعات السرية صفحه ۴۵) كُل النزارية يعتقدون ان نزاراً هو الامام الحق وان المستعلى اغتصب عنه العرش والامامة - تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٣٦٧) كان الحسن داهية وافر الذكاء والعزم عالما بالهندسة والرياضة والفلك خَبِيرًا بشئون الحرب في تدبير المكايد والنسائيس تاريخ الجميعات السرية صفحه ۵۱)