تاریخ افکار اسلامی — Page 221
تاریخ افکا را سلامی ۲۲۱ شیعہ اثنا عشریہ کے بعض غلو پسند ذیلی فرقے - الهشا میں۔اس فرقہ کے دو گروہ ہیں۔ایک گروہ کے قائد ہشام بن الحکم اور دوسرے کے ہشام بن السالم الْجَوَالِیقی ہیں۔یہ دونوں گروہ شیعہ اثنا عشریہ کی طرح ائمہ اہل بیت اور ان کی مذکورہ بالا تر تیب کو تسلیم کرتے ہیں لیکن بعض خاص نظریات کی وجہ سے یہ اثنا عشریہ سے الگ فرقہ شمار کئے جاتے ہیں۔ہشام بن الحکم کے خاص نظریات جن سے اثناعشریہ متفق نہیں درج ذیل ہیں۔1۔ہشام کے نزدیک انبیاء معصوم نہیں۔ان سے معصیت اور غلطی سرزد ہو سکتی ہے لیکن ان کے عصیان کا تدراک وحی کے ذریعہ ہو جاتا ہے یعنی خدا بذریعہ وحی ان کو متنبہ کر دیتا ہے کہ اُن سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور اس کا تدارک کیا ہے۔اس کے بر خلاف ہشام کے نز دیک ائمہ معصوم ہوتے ہیں وہ غلطی کر ہی نہیں سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کی طرح ائمہ بھی امت کی قیادت اور رہنمائی کے ذمہ دار ہیں اور اس رہنمائی میں غلطی نہیں ہونی چاہیے درندان کا اعتماد جاتا رہے گا اور چونکہ ائمہ پر وحی نازل نہیں ہوتی جو غلطی پر متنبہ کرے اس وجہ سے ان کا معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ غلط رہنمائی سے بچے رہیں اور امت کا اعتماد بحال رہے۔ہشام کا ایک نظریہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا جسم ہے اور وہ ذو حد ونہا یہ ہے۔ایک روایت کے مطابق ہشام کا اندازہ تھا کہ خدا کا قد اپنی بالشت کے لحاظ سے سات بالشت ہے جس طرح انسان کا قد اُس کی اپنی سات بالشت کے برابر ہوتا ہے۔ایک دفعہ ابو الهديل مُعْتَزِلی نے مکہ کے ایک پہاڑ جبل ابوقتیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہشام سے پوچھا کہ یہ پہاڑ بڑا ہے یا تیرا معبود تو ہشام نے جواب دیا قد کے لحاظ سے پہاڑ بڑا ہے۔اِنَّ الجَبَلَ اعْظَمُ مِنْهُ ہشام کہا کرتا تھا کہ خد اعرش پر متمکن ہے اور عرش اس کی سیٹ کے بالکل برابر ہے یعنی جتنا اُس کے بیٹھنے کا گھیر ہے اتنا ہی چوڑا اس کا عرش ہے۔الغرض ہشام کا کہنا تھا کہ ان الله تَعَالَى طَوِيلٌ عَرِيضٌ عَمِيقٌ (اى (جسم) وَلَكِن جِسْمُهُ لَيْسَ مَادِيًّا بَلْ هُوَ نُورٌ سَاطِع يَتَلا لا - ہشام کے نز دیک اللہ تعالیٰ کا علم ایک لحاظ سے حادث ہے یعنی اُسے اُس وقت کسی چیز کا علم ہوتا ہے جب وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔اگر یہ نہ مانا جائے تو اشیاء قدیم کو ماننا پڑے گا جو غلط ہے۔وہ یہ