تاریخ افکار اسلامی — Page 153
تاریخ افکا را سلامی ۱۵۳ کہا میں نے سنا ہے کہ آپ ہر سوال کا جواب قرآن وحدیث سے دیتے ہیں۔بتائے اگر ایک محرم زنبور ماردے تو کیا کفارہ ہے؟ آپ نے سوال سن کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول جو بات تم کو بتائے اس پر عمل کرو اور حضور نے فرمایا کہ میری اور میرے خلفاء کی پیروی کرو۔طارق بن شہاب کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے ایک محرم کو کہا کہ زنبور کو مار دو ے اس سے معلوم ہوا کہ زنبور مار دینے کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔جیسا کہ گزر چکا ہے امام شافعی قیاس کے علاوہ رائے کے دوسرے مآخذ مثلا استحسان، مصالح مرسلہ وغیرہ کو درست تسلیم نہیں کرتے تھے اور اس طرز فکر کو نقصان دہ قرار دیتے تھے۔امام شافعی اختلاف مسلک کے باوجود دوسرے مکتب ہائے فکر کا احترام کرتے تھے اور بڑے غیر متعصب تھے۔ایک دفعہ کسی نے آپ سے سوال کیا کہ ابو حنیفہ کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے جواب دیا وہ اہل عراق کے سردار تھے۔جب ابو یوسف کے بارہ میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ حدیث کا اتباع اور احترام کرتے تھے۔امام محمد فقہی تفریحات کے ماہر تھے قیاس میں ڈفر کی مہارت مسلم تھی۔ہے غرض حنفیوں کے ائمہ کے بارہ میں جو آپ کی رائے تھی اُسے بڑی صفائی اور عقیدت کے ساتھ بیان کر دیا۔امام شافعی علم کلام اور جدل و مناظرہ کو پسند نہیں کرتے تھے آپ کا کہنا تھا کہ ان مباحث کا کوئی فائدہ نہیں صرف زبان کا چٹخارہ یا دینی عیاشی کا سامان ہے۔بڑی بریکار بخشیں ہیں۔قرآن وسنت کی اتباع میں ہی نجات ہے آپ اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے إِيَّاكُمْ وَالنَّظْرَ فِي الْكَلامِ کلامی مسائل کو کوئی اہمیت نہ دو۔ان میں انہماک سے بچو۔- امام شافعی اور سفر مصر امام شافعی تین سال کے قریب بغدا در ہے۔کچھ زیادہ دل نہ لگا۔یہاں معتزلہ کا زور بڑھ رہا تھا۔مامون الرشید ان کی طرف جھک گیا تھا۔علاوہ ازیں الامین کی شکست کے بعد عربی عنصر کا الامام الشافعي صفحه ۱۱۷ الامام الشافعی صفحه ۱۸۴