تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 98 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 98

تاریخ افکا را سلامی ۹۸ مقاصد ضرور یہ ان کا مقصد امور خمسہ کی اصل اور بنیا دی بتا ہے۔مقاصد حاجیہ۔ان کا مقصد امور خمسہ کے لیے سہولت اور آسانی مہیا کرنا ہے۔مقاصد کمالیہ یا حسینیہ۔ان کا مقصد امور خمسہ کی تردیں اور ان کے حسن کو بڑھاتا ہے۔مقاصد ضرور یہ کے تحت ایسے احکام نافذ کئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ امور خمسہ کی بقا کی ضمانت مل سکے۔مثلاً : دین کی بقا اور حفاظت کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ،عقیدہ اور مذہب کی آزادی، اکراہ اور جبر کی ممانعت، دینی روح کو زندہ اور تازہ رکھنے کے لیے مختلف قسم کی عبادتوں کا تقرر۔جان یعنی نفس کی بقا اور حفاظت کے لیے ہوا ، پانی ، خوراک اور رہائش کے حصول کا حق قبل کی ممانعت ، فتنہ وفساد کی روک تھام۔نسل کی بقا اور حفاظت کے لیے نکاح کی اجازت اور زنا کی ممانعت۔مال کی بقا اور حفاظت کے لیے حق ملکیت کو تسلیم کرنا ، حق اکتساب اور روزگار، چوری اور نصب کی ممانعت۔عقل کی حفاظت اور بقا کے لیے علم کے حصول کا حق اور ان تمام امور سے انسان کو بچانا جو عقل کو متصل کرتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔اسی لیے منشیات سے منع کیا گیا ہے اور آبرو اور عزت کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے کیونکہ بے عزتی بعض اوقات انسان کو پاگل بنا دیتی ہے یا غصہ کی وجہ سے انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں لیے پھر ان پانچوں کی بقا کے بعد ان کی ضروریات اور حاجات کا سوال سامنے آتا ہے جس کے لیے مقاصد حاجیہ کی ترتیب و تعیین کا مرحلہ ہے مثلاً : فرمايا: لا إكراه في الدين (البقرة: ٢٥٦) لكم دينكم وَلَت دِيْنِ (الكافرون:٢) وَيَكُونَ الدينُ لِلَّهِ (البقرة : ١٩٣) الْفِتْنَةُ اَشتَمِنَ القَتْلِ (البقرة :١٩١) نَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (الغاشيه :۲۳) حماية النفس من اعتدا على النفس بالقتل او قطع الاطراف والمحافظة على الكرامة الانسانية بمنع القذف و السب (محاضرات صفحه (۹۴)