تاریخ افکار اسلامی — Page 71
تاریخ افکار را سلامی ۱۲۔بعض اوقات حزبی تعصب کی وجہ سے بھی قبول حدیث کے بارہ میں اختلاف ہوا۔مثلا شیعہ عام صحابہ اور ان کے شاگردوں کی روایات کو قبول نہیں کرتے اس کے بالمقابل بنو امیہ اور ان کے حامی جو اس وقت برسر اقتدار تھے حضرت علی اور ان کے حامیوں کی روایات کو کوئی دینی وقعت دینے کے لئے تیار نہ تھے لے اسی طرح خوارج ان صحابہ کی روایات کو قبول نہیں کرتے تھے جو عثمان کے آخری دور میں ان کے حامی تھے یا حضرت علی کی حمایت کا دم بھرتے تھے۔معتزلہ کا رویہ بھی قبول احادیث کے بارہ میں حوصلہ افزا سے نہ تھا۔اخبار احاد کی صحت اور حجیت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا ہے وہ موضوع کے علمی پہلو کو زیادہ واضح کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پر ہیز گار تھے۔انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا۔حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو ان کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی۔بہت محنت کی نگر نا ہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی۔کے بایں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور کبھی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔تاہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نا آشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے ان میں پیدا ہو گیا تھا تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے تاہم حد بیٹوں نے اس نور کو زیادہ کیا گویا اسلام نُورٌ عَلی نُور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہو گئیں۔لي ان اعظم تهمة كانت تؤدى بالناس فى ايام حجاج ان يحب رجل عليا ولا يتبوء منه ( الصلة بين التصوف والتشيع صفحه ٢٩٠) مالک بن انس صفحه ۱۸۳ كان احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم غير مدوّنة في كتاب بل كان يتلقى من أفواه الرّجال (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ٢١٠)