تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 400 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 400

تاریخ افکا را سلامی اور صبر و استقلال کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کئے بغیر اللہ تعالی کے " خاص فضل " حاصل نہیں کئے جاسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سعی۔آپ نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ دنیا میں سر بر آوردہ ہونے کے لئے جن اخلاق اور صلاحیتوں کی ضرورت ہے انہیں اختیار کیا جائے بات کرنے کا سلیقہ اور دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے دین کی اشاعت اور پاک تربیت کے لئے صلاحتیں صرف کرنے کے لئے جس توازن کی ضرورت ہے اُسے اپنا کر ہی یہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔کامیاب تربیت کے لئے یہ امتیاز ضروری ہے کہ کونسے مرحلہ میں طاقت کا استعمال ہونا چاہئے اور کونسے مسائل کی ترویج کے لئے وعظ و نصیحت اور حکمت و موعظت سے کام لینا چاہئے اور کونسے کام کا کونسا وقت ہے یہ ساری خوبیاں ایک ترقی پذیر روحانی جماعت کے اندر دینی معاشرہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہیں۔۔پس اگر دنیائے اسلام جہاد کی عملی اہمیت کو سمجھ لے اتحاد اور اتفاق کی نعمت کو پالے صبر اور جذبات کی قربانی پیش کرنے کا ملکہ اپنے اندر پیدا کر لیا اور قوت ایجاد کے فقدان کا مذارک کر سکے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ دلائل حقہ سے لیس ہو کر بحیثیت اجتماعی فریضہ تبلیغ کی طرف متوجہ ہو تو لادینی طاقتیں اس کے سامنے بالکل بیچ ہو جائیں اور وہ اپنی علمی کمزوری اور روحانی در ماندگی کو پہچان کر بڑی تیزی کے ساتھ گروہ در گروہ ”حق“ کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔اس وقت علمی تبلیغ کے زیادہ مؤثر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام خود اُن خوبیوں سے عاری ہے جن کی طرف اسلام بلاتا ہے۔اس وقت نمونے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔امن وسلامتی کا نمونہ اخلاقی برتری کا نمونہ۔صبر و رضا کا نمونہ۔قناعت و کفایت کا نمونہ۔دیانت وامانت کا نمونہ۔محنت وسعی کا نمونہ۔حوصلہ اور استقلال کا نمونہ۔مصائب میں بھی دوسروں کے کام آنے کا نمونہ۔یہ نمونے بڑی زبر دست طاقت ہیں اور یہ طاقت حاصل کرنے کے لئے جماعت احمد یہ اپنے خلیفہ راشد کی قیادت میں آہستہ آہستہ آگے بھی بڑھ رہی ہے اور اپنے مولا النجم ٤٠ کے اس روحانی و دینی اور یہ بہتی پروگرام کی تفصیل جاننے کے لئے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ ضروری ہے