تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 387 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 387

تاریخ افکارا سلامی ۳۸۷ آخر اس عورت نے مزید کچھ بتانے سے معذوری کا اظہار کیا اور کہا کہ جزیرہ کے درمیان میں ایک گر جا ہے وہاں جاؤ وہاں تمہیں ایک آدمی ملے گا جو مزید باتیں تمہیں بتائے گا۔چنانچہ وہ لوگ گر جا میں گئے جہاں انہوں نے ایک اور خوفناک شخصیت کو دیکھا جوز نجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔اُس عجیب و غریب شخصیت نے انہیں جو باتیں بتائیں اُن میں یہ بات بھی تھی کہ وہ دجال ہے اور اُسے عنقریب اس جزیرہ سے نکلنے کی اجازت ملنے والی ہے اور وہ یہاں سے نکلنے کے بعد ” مکہ اور مدینہ کے سوا باقی ساری دنیا پر مسلط ہو جائے گالے۔صحیح مسلم کی اس روایت سے ظاہر ہے کہ دجال کا تعلق بعض مغربی سمندری جزائر کے گرجوں سے ہے جہاں وہ قید ہے ہے اور ایک وقت میں آکر اُسے اس قید سے نکلنے کا موقع ملے گا۔اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ دجالی فتنہ کا آغاز یورپ کے بعض جزائر سے ہوگا جو عیسائیت کا گڑھ ہوں گے کیونکہ اب جبکہ طبقات الارض کے ماہرین نے بحروبر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے اور سمندر کے سب جزائر کا علم دنیا کو ہو چکا ہے تو آخر وہ جزیرہ کون سا اور کہاں واقعہ ہے جس کے گر جائیں حضرت تمیم داری نے دجال کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھا اور بعض مسلمانوں کے خیال کے مطابق وہاں وہ ہیبت ناک انسان اب بھی پابند سلاسل ہے۔مذکورہ بالا وضاحت کے درست ہونے کی ایک اور دلیل وہ حدیث ہے جس میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دجال کے فتنہ سے بچنا چاہتا ہے وہ سورہ کہف کے ابتدائی اور آخری رکوع کی بکثرت تلاوت کیا کرے۔۔اب جب ہم ان دونوں رکوعوں کے مضمون پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں عیسائیوں کے عقائد ، اُن کے نظریات اور ان کی مادی ترقی پر بحث کی گئی ہے اور ایسے مضامین کو نمایاں کیا گیا ہے جن کا یورپین طاقتوں کے کردار سے گہرا تعلق ہے۔پھر ایسی متعد دروایات بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوں گئے ”روم یعنی عیسائی طاقتوں کا غلبہ ہو گا اسی وجہ سے مسیح موعود کا ایک کام یہ بیان کیا گیا ہے 1 غالباً یہ مغربی طاقتوں کے زبر دست نظام جاسوسی کی طرف اشارہ ہے جس میں عورتوں کو خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔غالباً یہ قسطنطنیہ کی اسلامی حکومت کی طرف اشارہ ہے جس نے ایک مدت تک عیسائی طاقتوں کے پھیلاؤ کو روکے رکھا۔مسلم كتاب الفتن باب ذكر الدجال۔بذل المجهود في حَلّ ابی داؤد باب خروج الدجال - -