تاریخ افکار اسلامی — Page 382
تاریخ افکا را سلامی PAP ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتدائے دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے؟ ہما را مد عا صرف اس قدر ہے کہ جب سے نسل انسان دنیا میں آئی ہے نشان کے طور پر یہ خسوف و کسوف صرف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کو یا تفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعوی کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوئی کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقرر کردہ تاریخوں میں خسوف کسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے ایک نشان ظہرایا ہو اور دار قطنی کی حدیث میں یہ تو کہیں نہیں ہے کہ پہلے بھی کسوف خسوف نہیں ہوا۔ہاں یہ تصریح سے الفا ظ موجود ہیں کہ نشان کے طور پر یہ پہلے کسوف و خسوف نہیں ہوا کیونکہ لَمْ تَكُونَا کا لفظ مؤنث کے صیغہ کے ساتھ دار قطنی میں ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ایسا نشان کبھی ظہور میں نہیں آیا اور اگر یہ مطلب ہوا کہ کسوف خسوف پہلے بھی ظہور میں نہیں آیا تو لَمْ يَكُونَا تذکر کے صیغہ سے چاہیے تھا نہ کہ لَم تَكُونَا کہ جو مؤنث کا صیغہ ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ایین ہے یعنی دونشان کیونکہ یہ مؤنث کا صیغہ ہے۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے اُس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ دے جس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہوا اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی چاہیے اور یہ صرف اسی صورت میں ہو گا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی معہو و ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دار قطنی کی مقرر کردہ تاریخوں کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے۔غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا ہے۔" چشمه معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۹، ۳۳۰ حاشیه