تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 285 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 285

تاریخ افکا را سلامی ۲۸۵ ان خارجیوں نے اس موقع پر حضرت علی سے اور بھی بہت سے سوال کئے۔حکیم کے فیصلہ پر اعتراض کیا۔حضرت علی نے سب کے تسلی بخش جواب دیئے جس کی وجہ سے آٹھ ہزار کے قریب خارجی واپس حضرت علی کے لشکر میں شامل ہو گئے لیکن چار ہزار مقابلے کے لئے اڑے رہے اور آخر سارے کے سارے جنگ میں مارے گئے۔صرف نو افراد بیچ سکے۔دوسری طرف اس جنگ میں حضرت علیؓ کے لشکر کے بھی نو سپاہی شہید ہوئے۔جو نو خارجی بچ گئے تھے وہ بھاگ کر سجستان، یمن، الجزیرہ اور تل موزن وغیرہ علاقوں کی طرف بکھر گئے اور روہاں جا کر خارجی فتنہ کے بیج بوئے۔٢- الْأَزَارِقَهُ یہ نافع بن الازرف کے پیرو تھے۔انہیں ایک وقت میں بڑی شان وشوکت حاصل ہوئی اور خاصے بڑے علاقے پر ایک لمبا عرصہ قابض رہے۔یہ فرقہ گناہ کے مرتکب کو مشرک قرار دیتا تھا۔مخالفین کی عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز سمجھتا تھا۔یہ لوگ رجم کے بھی منکر تھے اور صرف عورت پر تہمت لگانے والے کو قذف کی سزا دینے کے قائل تھے ان کا یہ بھی نظر یہ تھا کہ چور جیسا بھی ہو اس نے تھوڑا مال چھ لیا ہو یا زیادہ اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں۔گویا یہ نصاب سرقہ کے قائل نہ تھے۔اس فرقہ کی فوج میں ہزار سے زیادہ تھی۔یمامہ کے خارجی بھی ان میں شامل ہو گئے تھے۔انہوں نے اہواز اور کرمان کے علاقوں میں غلبہ حاصل کیا۔عبد اللہ بن زبیر کے لشکروں کو انہوں نے کئی بار شکست دی۔آخر کا رعبد اللہ بن زبیر نے مُهَلَّبْ بِنْ أَبِي صُفْرَہ کو ان کے مقابلہ کے لئے تیار کیا۔وہ پچیس ہزار کا لشکر لے کر حملہ آور ہوا۔مہلب قریباً میں سال تک ان سے بر سر پیکار رہا۔انہی جنگوں میں نافع بن الا زرق مارا گیا اور اس کا جانشین مشہور شاعر فطرى بن الْفُجَاءَة بھی کام آیا۔اس طرح بڑی مشکلوں کے بعد از ارقہ کے فتنہ کا استیصال ہوا۔اس فرقہ کے بے اثر ہو جانے کی ایک وجہ ان کا باہمی انتشار بھی تھا۔النَّجْدَات خوارج کا یہ فرقہ نَجْدَة بِنْ عَامِرُ الْحَنَفِی کا پیرو تھا۔اس فرقہ کی فوجیں ایک دفعہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئیں۔وہاں لوگوں کو قتل کیا اور عورتوں کو لونڈیاں بنا کر لے گئے۔ان عورتوں میں حضرت عثمان کی ایک نواسی بھی تھی۔اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے مطالبہ پر ان کے لیڈ رنجد ہ نے اس لڑکی کو