تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 277 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 277

تاریخ افکا را سلامی الْخَابِطِيَّہ اور ان کا نظریہ تناسخ یہ فرقہ احمد بن خابط کا پیرو تھا۔احمد کا شمار معتزلہ میں ہوتا ہے اور اس کے خاص نظریات میں سے ایک نظریہ یہ تھا کہ تمام حیوانات بشمول انسان ایک ہی جنس کی اور ایک جیسی روح رکھتے ہیں۔اس جنس کی ارواح کو ایک اور عالم میں پیدا کیا گیا تھا۔یہ روح ہی اَلحَى العالم اور القادر ہے اور یہی مکلف ہے فَجَمِيعُ انْوَاعِ الحَيَوَان مُحْتَمِل لِلتَّكْلِيفِ اس بناپر ازل میں ہی سب حیوان احکام الہی یعنی امر اور نہی کے مخاطب تھے۔چنانچہ ازل میں بعض روحوں نے ان احکام خداوند کی پوری پوری اطاعت کی اور بعض نے کوئی حکم نہ مانا۔جوڑو میں فرمانبردارر ہیں ان کو ہمیشہ کے لئے دَارُ النَّعِیم میں رہائش ملی اور جن روحوں نے نافرمانی کی وہ ہمیشہ کے لئے دو زخ میں ڈال دی گئیں۔مذکورہ روحوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جنہوں نے اللہ تعالی کے بعض احکام کو مانا اور بعض کی تعمیل نہ کی ، کچھ نیک کام کئے اور کچھ برے۔ایسی روحوں کو اصلاح کا موقع دیا گیا اور انہیں اس غرض کے لئے دارالعمل یعنی اس دنیا میں بھیج دیا گیا اور ہر ایک کو اُس کے اچھے یا بُرے اعمال کی مقدار اور نوعیت کے مطابق مختلف شکلیں دی گئیں۔کوئی انسان بنا ، کوئی گھوڑا، کوئی گدھا، کوئی شیر، کوئی سوریائی اور کوئی پانی کا جانور مچھلی یا مگر مچھ۔اعمال ہی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو آرام و آسائش میسر آئی اور بعض مشکلات اور مصائب سے دو چار ہوئے جن کے اعمال کسی لحاظ سے اچھے تھے انہیں خوبصورت اور دیدہ زیب جسم ملے اور جن کی برائیاں زیادہ تھیں انہیں بُرے اور مرد قوالب دیئے گئے۔اس کے ساتھ ہی ہر شکل کے حیوانوں کی طرف ان کی جنس میں سے ہی رسول اور نبی مبعوث ہوتے رہتے ہیں جو ان رسولوں کی مانتے ہیں اور اپنی پوری پوری اصلاح کر لیتے ہیں۔انہیں واپس دائی داراشتیم میں بھیجوا دیا جاتا ہے اور جو شریر اور نا فرمان رہتے ہیں وہ دوزخ کی طرف دھکیل دیئے جاتے ہیں اور جن کے اعمال ملے جلے کچھ اچھے اور کچھ بُرے ہوتے ہیں وہ مختلف جونوں اور قوالب کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔علامہ بغدادی احمد بن خابط کے نظریہ تناسخ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔اَلْأَرْوَاحُ المَشُوبَةُ تَنْتَقِل إِلَى صُوَرٍ مُخْتَلِفَةٍ مِنْ صُوَرِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ والسَّبَاعِ وَالْحَشَرَاتِ وَغَيْرِهَا عَلَى مَقَادِيرِ الذُّنوبِ وَالْمَعَاصِي فِي الدَّارِ الْأَوْلَى الَّتِى خَلَقَهُمُ اللهُ فِيهَا۔وَ أَنَّ الرُّوحَ لَا يَزَالُ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا يَتَكَرَّرُ فِي قَوَالِبَ وَصُوَرٍ