تاریخ افکار اسلامی — Page 222
تاریخ افکارا سلامی ۲۲۳ بھی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے ایک شعاع (کرن ) پھولتی ہے جو چیز موجود سے ٹکراتی ہے یا اس کے اندر تک چلی جاتی ہے۔اس طرح اس شعاع کی تنویر سے اُسے اس چیز کا علم حاصل ہوتا ہے۔ہشام کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ارادہ اُس کی حرکت کا نام ہے یعنی جب وہ حرکت کرتا ہے تو تخلیق کا عمل شروع ہوتا ہے۔ہشام کا یہ نظریہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات علم ، قدرت، سمع وغیرہ کو نہ قدیم کہا جا سکتا ہے اور نہ حادث - لان الصفات لا توصف (صفت کی صفت بے معنے بات ہے۔) فَالْقُرْآنُ (آی سلامُ اللهِ ) لَا مَخْلُوقَ وَلَا حَادِتْ ہشام بن الحکم بڑی متنازعہ فی شخصیت رہا ہے۔بعض اُسے بڑا پارسا پیج العقیدہ، نکتہ ریس اور عالم باعمل مانتے ہیں اور اس کے اظہارات اور نظریات کی تاویل اور تو جیہ کرتے ہیں۔حد یہ ہے کہ اُس کی طرف سے دفاع میں بعض علماء اہل السنت پیش پیش رہے ہیں جبکہ بعض دوسرے علماء خاص طور پر شیعہ اثنا عشریہ اُسے خبیث العقید داور کافر سمجھتے ہیں۔ہشامیہ فرقہ کا دوسرا گر وہ ہشام بن السالم الجوالیقی کا پیرو ہے۔اس کا خاص نظریہ جس سے دوسرے اثنا عشریہ متفق نہیں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی شکل ایک انتہائی حسین و جمیل انسان کی طرح ہے لیکن یہ شکل نوری ہے مادی نہیں۔أَى أَنَّهُ لَيْسَ بِلَحْمٍ وَلَا دَمِ بَلْ هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ لَهُ يَدْ وَ رِجُلٌ وَعَيْنٌ وَ اذْنٌ وَ أنفٌ وَ قَمْ وَ اَنَّ نِصْفَهُ الأعْلَى مُجَرَّفٌ وَنِصْفُهُ الأسْفَلُ مُصَمَّتْ وَ لَهُ ذَفَرَةٌ (شَعْرٌ) سَوْدَاءُ مِنْ نُورٍ أَسْوَدَ وَبَاقِيَهِ نُورٌ أَبْيَض اسی نظریہ کے تحت اس فرقہ کے لوگ جب کسی حسین عورت یا مرد کو دیکھتے تو یہ خیال کرتے ہوئے اس کے سامنے سجدہ میں گر جاتے کہ اس میں انہیں خدا کا جلوہ نظر آیا ہے۔- الزراريه - زرارہ بن آغین کے پیرو تھے۔اس فرقہ کے لوگ حضرت امام جعفر کے بڑے بیٹے عبد اللہ کو مانتے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد شیعہ اثنا عشریہ کی طرح یہ بھی امام جعفر کے دوسرے بیٹے امام موسی الکاظم کو امام ماننے لگے۔ان کا خاص نظر یہ جو ان کو اثنا عشریہ سے الگ کرتا ہے یہ ہے کہ۔الفرق بين الفرق صفحه ٤٦ الفرق بين الفرق صفحه ٤٦