تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 97 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 97

تاریخ افکار را سلامی 92 کا استنباط کرتے ہیں اور کبھی کبھی اس عمل کا نام استحسان بھی رکھتے ہیں۔لے مصلحت مرسلہ سے مراد ہر وہ مصلحت ہے جس کو واضح رنگ میں تو شریعت نے بیان نہیں کیا تو لیکن مقاصد شریعت میں اس کا عمومی تاثر ملتا ہے اور ہر صاحب فہم اس کے وجود کو محسوس کرتا ہے۔بنیادی طور پر قوانین شرع میں انسانی مصالح کا تعلق تین باتوں سے ہے:۔اوّل یہ کہ قوانین کم سے کم ہوں اور زیادہ تر انسان اپنے اندا ز زندگی میں آزاد ہو۔اس کا اصطلاحی نام ” قلت تکلیف ہے۔دوم: قوانین آسان ہوں اور لوگ اس پر بآسانی عمل کر سکیں اس کا اصطلاحی نام تخدم حرج " ہے۔سوم: قوانین کا اجراء آہستہ آہستہ اور بتدریج ہو اس کا اصطلاحی نام تدریج " ہے۔نظام تشریع ان تین اصولوں پر مینی ہے۔کم قوانین۔آسان قوانین اور ان کا نفاذ بتدریج۔یہی اصول تشریح کی جان ہیں اور مقاصد شریعت میں ان تینوں باتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔مقاصد شریعت اور مصالح بنیادی طور پر مقاصد شریعت پانچ ہیں۔حفظ دین۔حفظ جان۔حفظ نسل۔حفظ مال اور حفظ عقل۔سارا نظام شریعت انہی مقاصد کے گردگھومتا ہے۔دین، جان نسل ، مال اور عقل کی بقا اور ان کی حفاظت اور ان کی تہذیب و تربیت اور تکمیل ساری سرگرمیوں کا محور اور مرکز ہے۔ان پانچ امور کی حفظ و بقا اور تہذیب وارتقاء کے لحاظ سے مقاصد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔" ل الاستحسان عند مالك تقديم الاستدلال المرسل على القياس والاستصلاح الاخذ بالمصلحة المناسبة حيث لا نص وكان يقول مالك الاستحسان تسعة اعشار العلم۔مالک بن انس صفحه ۲۱۴،۱۰۱ - محاضرات صفحه ۲۳۶ ۲۳۷) کل اصل شرعي لم يشهد له نص معين وكان ملائما لتصرفات الشرع و ماخوذا معناه من ادلة الشرع فهو صحيح يبنى عليه ويرجع اليه و يدخل تحت هذا الضرب من الاستدلال المصالح المرسلة والتشريع كله يبتغى مصالح البشر ومثال المصلحة المرسلة رفع الحرج" وهو مستنبط من عدة نصوص كالتيمم والقصر وجمع الصلوة وايضا قبل المصلحة المرسلة ما لا يشهد لها دليل خاص بالاعتبار او بالإلغاء (مالک بن انس صفحه ۲۱۵٫۲۰۳_محاضرات صفحه ۲۳۶)