تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 62 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 62

تاریخ افکار را سلامی ۶۴ روایت احادیث اور صحابہ ہر انسان مختلف طبیعت رکھتا ہے کوئی زیادہ باتیں یادرکھنے اور پھر انہیں آگے دوسروں تک پہنچانے اور انہیں بار بار دہرانے کا طبعی ذوق اور شوق رکھتا ہے اور اس طبیعی مناسبت کی وجہ سے تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ رجحان کا مالک ہوتا ہے اور کوئی نسبتا کم کو اور صرف ضرورت کے وقت کسی بات یا واقعہ کو بیان کرتا ہے۔یہی حال صحابہ رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کا تھا۔پھر بعض صحابہ ملکی اور انتظامی ذمہ داریوں میں زیادہ مصروف تھے اور بعض کا تعلق کا روبار سے تھا۔نیز بعض صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بات منسوب کر کے بیان کرنے میں بڑے محتاط تھے کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔اس قسم کی وجوہات سے صحابہ کی مرویات کی قلت یا کثرت کا تعلق ہے۔حضرت ابو بکر الصدیق اور حضرت عمر اور دوسرے کبار صحابہ جو السابقون الاولون میں سے تھے اور انہیں سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل تھا مگر ان کی روایات نسبتا بہت کم ہیں جبکہ بعض دوسرے صحا بہ جنہوں نے بہت کم عرصہ حضور کی صحبت میں گزارا ان کی روایات بہت زیادہ ہیں۔چنانچہ سب سے زیادہ روایات حضرت ابو ہریرہ کی ہیں جن کی تعداد قریباً ۵۳۷۴ ہے۔حالانکہ وہ چھ سات ہجری میں فتح خیبر کے قریب مسلمان ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن عمر کی مرویات ۲۶۳۰ ، حضرت انس بن مالک کی ۲۲۷۶ ، حضرت عائشہ کی ۲۲۱۰ ، حضرت ابن عباس کی ۱۹۷۰ء ومن الصحابة من كان يتوقف في التحديث۔۔۔۔۔۔۔۔۔خشية من ان ينسب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقله۔وقال عمرو بن الشيباني كنت اجلس الى ابن مسعود حولا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم استقلته رعدة وقال هكذا او نحوذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔۔۔و كان ابن عباس يقول كنا نحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ لم يكن يكذب عليه فلما ركب الناس الصعبة والذلل تركنا الحديث عنه - (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۱۹ - الامام الشافعي صفحه ۲۱۱)