تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 48 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 48

تاریخ افکا را سلامی ۴۸ میں ہیں اس پر ا بن ابی ذویب نے کہا کہ میرا مقصد بھی امیر المومنین کی خیر خواہی ہے آپ کی بھلائی ہی میرا مدعا ہے۔میں کسی کینہ یا غصہ کی بنا پر یہ تلخ تقید نہیں کر رہا۔لے امام مالک کا ہی بیان ہے کہ ایک دفعہ ابو جعفر منصور نے انہیں اور عبید اللہ بن طاؤوس کو بلوایا۔عبید اللہ ابھی جوان تھے بڑے وجیہ اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے اور ان کے والد طاؤوس بداللہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگر درہ چکے تھے۔حضرت ابن عباس ابو جعفر منصور کے پڑدادا تھے۔بہر حال منصور نے اس تعلق کی بنا پر عبید اللہ سے پوچھا کہ آپ کو اپنے والد کی کوئی حدیث یا د ہے جو انہوں نے حضرت ابن عباس سے سنی ہو۔عبید اللہ نے جواب دیا کہ آپ کے جد امجد نے میرے والد کو یہ حدیث سنائی تھی کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت میں شریک کیا لیکن اس نے بجائے عدل و انصاف کے ظلم و جور کو رواج دیا اور لوگوں کو اپنی زیا دتیوں کا نشانہ بنایا۔“ امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ عبید اللہ نے ایسی بات کہی ہے کہ منصورا بھی غصہ میں آکر اس کی گردن اڑا دے گا اور اس کے خون کے چھینٹے میرے کپڑوں پر پڑیں گے۔اس لئے میں اپنے کپڑوں کو سراسیمگی کے مارے سمیٹنے لگا لیکن منصور عبید اللہ کی تلخ بات کو پی گیا اور یہ حادثہ نہ ہوا۔بات بدلنے کے لئے منصور نے عبید اللہ سے کہا وہ روات مجھے پکڑاؤ لیکن عبید اللہ نے دوات نہ پکڑائی۔منصور نے وجہ پوچھی تو عبد اللہ نے کہا۔مجھے خدشہ ہے کہ تم کوئی ایسا حکم لکھو گے جو گناہ یا ظلم کا موجب ہو گا اور میں نہیں چاہتا کہ گناہ میں ذرا بھی میری شرکت ہو۔ہے ایک دفعہ سفیان ثوری ابو جعفر منصور سے ملنے گئے دوران گفتگو آپ نے کسی بات پر منصور سے کہا آپ اللہ سے ڈریں۔ظلم و جور سے زمین بھر گئی ہے۔منصور آپ کی اس تلخ بات کو پی گیا کچھ دیر کے لئے سر جھکا کر بیٹھا رہا پھر سر اٹھایا اور پوچھا آپ کی کوئی ضرورت ہو تو بتائیے۔انہوں نے کہا آپ کو یہ مقام مہاجرین اور انصار کی قربانیوں کے طفیل ملا ہے اور اب ان کی اولا دید بینہ میں فاقوں مررہی ہے کیونکہ آپ نے انہیں سبق سکھانے کے لئے مدینہ میں غلہ بھجوانے کی ممانعت کر رکھی ہے۔منصور نے تھوڑی دیر کے لئے پھر سر جھکا یا پھر کہا آپ کی اگر کوئی ضرورت ہو تو بتائیے۔آپ ل الامام شافعی ۱۸۸ مالک بن انس صفحه ۲۵۱