تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 43 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 43

تاریخ افکار را سلامی مسلمان اور سیاسی مسائل تا ہم سیاسی مسائل کے حل کے لئے اس زمانہ کے مسلم علماء کوئی موثر نظام ترتیب نہ دے سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضور کے تربیت یافتہ صحابہ نے انتخابی طرز حکومت کا آغاز کیا تھا اور اس کی بنیا دپر خلافت راشدہ کا دور شروع ہوا لیکن چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ کی شہادت کے بعد نہ یہ اصول انتخاب باقی رہا نہ صحیح انتخاب کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے عوام کی تربیت کا کوئی بہتر اور نتیجہ خیز نظام جاری ہوا اور نہ کوئی مؤثر ادارہ انتخاب تشکیل پاسکا۔شیعہ ذہن رکھنے والے حضرات نے قدیم ایرانی اثرات کے تحت ولایت مسلمین کے لئے وراثت اور قدامت کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ خلافت کا حق وراثتاً اہل بیت رسول کو پہنچتا ہے۔کسی دوسرے کے لئے یہ حق نہ تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی کے انتخاب کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اسی رجحان کے فروغ سے بنو امیہ نے فائدہ اٹھایا اور پرانے شاہی وراثتی نظام حکومت کے رواج کو اختیار کیا جس کے لئے تغلب ، استحصال اور ظلم واستبدا و ضروری ہے۔چنانچہ ظلم و ستم کے ہر اُس ذریعہ کو کام میں لایا گیا جس سے ان کے تسلط اور اقتدار کو استحکام مل سکتا تھا۔بنو اُمیہ کے بعد بنو عباس بھی اسی طرز حکومت پر عمل پیرا رہے۔فقہاء اسلام اور علماء سیاست کے نزدیک اگر چہ علمی لحاظ سے خلافت راشدہ کا انتخابی طریق ہی صحیح اصل تھا لیکن چونکہ حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے تغلب اور استبداد کا مجمی طریق مستحکم ہو چکا تھا اور انتخاب کے تقاضوں کے مطابق عوام کی تعلیم وتربیت کا معقول انتظام نہیں ہو سکا تھا۔اس لئے امت کی مجموعی مصلحت اور فتنہ وفساد اور خون ریزی سے بچنے کے لئے بحالت مجبوری علماء نے تغلب اور توارث کے اصول حکمرانی کے جواز کا فتویٰ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک قائم شدہ حکومت کے خلاف علاقائی بغاوتوں میں حصہ لینا درست نہیں۔اس سے امن وامان بر باد ہوتا ہے۔فتنہ وفساد کو فروغ ملتا ہے تباہی اور بربادی کا ایک تسلسل جاری ہو جاتا ہے۔یہ تمدنی اور علمی ترقی رک جاتی ہے ذہنی جمود اور مایوسی کی فضا پیدا ے چنانچہ علماء نے لکھا ہے الفتن يحدث فيها مظالم لا تحصى اذ تعم الفوضى وَ فَوْضَى ساعة تسكب فيها من المظالم ما لا يُرْتَكبُ في استبداد سنين" (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۲۲۰)