تاریخ افکار اسلامی — Page 399
تاریخ افکا را سلامی ٣٩٩ بھی اپنے لئے خلافت کے انتخاب کا طریقہ ایجاد کرو" ہے۔و حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارناموں میں سے چوتھا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے و عملی جہاد کا حقیقی معنوں میں احیاء کیا۔عام مسلمان صرف لفظاً جہاد کے قائل تھے نہ کوئی عمل تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری بلکہ وہ تو دین کے لئے قربانی پیش کرنے اور جہاد کے لئے تیاری کرنے کی بجائے اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ جب مسیح اور مہدی آئیں گے تو وہ خود مسلمانوں کے مصائب کا مداوا اس رنگ میں کریں گے کہ محض روحانی طاقت اور منہ کی پھونکوں سے ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیں گے۔سب ملتوں کو مٹا دیں گے۔وہ غیر مسلموں کے مذہبی نشان مثلاً عیسائیوں کی صلیب کو توڑ پھوڑ دیں گے اور پھر ساری دنیا کی دولتیں نام کے مسلمانوں کے قدموں میں لا ڈالیں گے اور اس طرح مسلمان دنیا بھر کی حکومتوں کے مالک بن جائیں گے۔یہ تھی مسلمانوں کی خیالی دنیا اور انسانی سے بھری سوچ جس کے غلط ہونے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے توجہ دلائی اور بتایا کہ آنے والے مسیح اور مہدی میں خواہ کتنی ہی روحانی طاقتیں ہوں۔وہ بہر حال اپنے آقا سر دار دو جہاں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر نہیں۔پس جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے جاں گسل محنت اور جد وجہد کرنی پڑی بے مثل جانی اور مالی قربانیاں پیش کرنی پڑیں اور آپ کے صحابہ نے اس راہ میں جس طرح سرفروشی کے کارنامے دکھائے تاریخ عالم میں ان کی مثال نہیں ملتی کیونکر وہ محنت کے پسینہ میں نہا کر اور خون کے دریا میں سے گزر کر اپنے اعلیٰ مقاصد تک پہنچے اور اصلاح خلق کا فریضہ بجالائے تو پھر اور کون ہے جو صرف روحانی پھونکوں اور منہ کی باتوں سے دینی انقلاب لے آئے اور ہولناک طاقتوں کو ہاتھ کے اشارہ سے نیست و نابودکر دے۔غرض آپ نے دنیا خاص طور پر مسلمانوں کو اصل حقیقت کی طرف توجہ دلائی اور عملی جہاؤ" پر یقین رکھنے والی ایک ایسی جماعت کی بنیا درکھی جو صحابہ کی مانند اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرتی چلی جا رہی ہے آپ نے اس جماعت کے اندر اپنی روحانی قو 5 اور خدا دا د جذب کے ذریعہ یہ یقین اور جذ بہ پیدا کیا کہ محنت اور قربانی۔اتحاد او را تفاق۔وسائل کے اندر رہتے ہوئے عقلمندی تفسیر کبیر تفسیر سورة النور آیت ۵۶ و