تاریخ افکار اسلامی — Page 398
تاریخ افکا را سلامی ۳۹۸ فرماتا ہے اگر تم سچا ایمان پیدا کرو گے اور نیک اعمال بجالاؤ گے تو تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی جائے گی لے۔چنانچہ خلافت کی اسی اہمیت کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے مطابعد آپ کے صحابہ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نظام خلافت قائم کر کے اُس کے لئے خلیفہ راشد منتخب کیا۔اس انتخاب میں حسب وعدہ الہی بذریعہ وحی خفی تصرف اور روحانی رہنمائی کا دخل تھا۔خلیفہ راشد کا اصل دین کی تبلیغ اور اس کا استحکام اور مسلمانوں کی روحانی ، اخلاقی اور تمدنی رہنمائی ہے۔حکومت اور سیاست تو ضمنی چیز ہے۔یہ میسر آئے یا نہ آئے اس سے خلافت کے اصل فرائض پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔قرآن کریم نے وعدہ خلافت کے ضمن میں جو یہ فرمایا ہے کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ سابقہ دینی جماعتوں میں جو عظیمی صلاحیتیں ہیں ان کے انداز پر بھی غور کرو۔مثلاً پاپائیت۔جو ایک رنگ میں مسیحی دین کی خلافت ہے با وجود سینکڑوں خرابیوں کے اپنے اندر ایسی کوئی خوبی ضرور رکھتی ہے جس کی وجہ سے یہ دو ہزار سال سے قائم و دائم ہے اس میں کیا راز ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تفسیر کبیر میں نظام خلافت پر بحث کرتے ہوئے اس راز کی اس طرح نشان دہی کی ہے۔پہلی قوموں میں یہودیوں کے علاوہ عیسائی قوم بھی ہے جس میں خلافت بادشاہت کے ذریعہ نہیں آئی بلکہ اُن کے اندر خالص دینی خلافت تھی۔پس گیا استخلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں پہلوں کے طریق انتخاب کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام بھی اس کی تصدیق کرتا ہے آپ کا الہام ہے "کلیسیا کی طاقت کا نسخہ لے یعنی کلیسا کی طاقت کی ایک خاص وجہ ہے کہ اس کو یا درکھو۔کو یا قرآن کریم نے کہا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کے الفاظ میں جس نسخہ کا ذکر کیا ہے الہام میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس طرح وہ لوگ اپنا خلیفہ منتخب کرتے ہیں اُسی طرح یا اُس کے قریب قریب تم ل النور: ۵۶۔ذکره صفحه ۵۲۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء