تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 20 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 20

تاریخ افکا را سلامی ہیں کہ بندہ مختار اور آزاد ہے جو چاہے کرے کو یا اہل السنت کے نزدیک معاملہ بہین بین ہے کچھ خدا کرتا ہے اور کچھ بندہ خدا خالق ہے اور بندہ کا سبب ہے۔اہل السنت کے نزدیک ان مادی آنکھوں سے اللہ تعالی کی رویت ممکن ہے۔اس دنیا میں بھی وہ نظر آسکتا ہے اور اگلے جہاں میں بھی وہ مومنوں کو نظر آئے گا۔فرمایا وَجَوَةٌ يَوْمَذٍ نَاضِرَةٌ إلى ربها ناظرة۔اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے رب کو ایسا دیکھو گے جس طرح ے چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہوئے جبکہ ابن سالم بصری کہتا ہے کہ وہ کافروں کو بھی نظر آئے گا۔ضرار بن عمر و کہتا ہے کہ وہ اس مادی آنکھ سے نظر نہیں آسکتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز انسان کو ایک چھٹی حس عطا کرے گا۔اس جس کے ذریعہ وہ ان کو نظر آئے گا۔معتزلہ قدریہ اور جہمیہ کہتے ہیں کہ خدا کا نظر آنا محال ہے کیونکہ وہ لامحدود ہے اور نظر میں آنے کے لئے محدود ہونا ضروری ہے۔اہل السنت کے نزدیک اسماء الہی توقیفی ہیں یعنی قرآن کریم اور احادیث میں اس کے جو نام گنوائے گئے ہیں وہی استعمال میں آنے چاہئیں اپنی طرف سے اس کے نئے نئے نام نہیں گھڑنے چاہئیں جبکہ معتزلہ قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کام کرتا ہے اس کے مطابق اس فعل سے اس کا نام مشتق ہو سکتا ہے مثلا وہ بندوں کی بات مانتا ہے ان کی مراد میں بہ لاتا ہے ان کی دعائیں قبول کرتا ہے اس لئے اس کا نام ”مطیع ، یعنی بات ماننے والا رکھ سکتے ہیں۔اسی طرح وہ حمل ٹھہراتا ہے اس لئے اس کا نام مخمل بھی ہے لیکن یہ نظريه له الأسماء الحسنى - کے خلاف ہے۔اہل السنت کے نزدیک اسماء الہی کی تین قسمیں ہیں:۔الف : وہ اسماء جو اس کی ذات پر دلالت کرتے ہیں جیسے المَوْجُودُ الْوَاحِدُ الاول۔الآخِرُ الْغَنِيُّ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ وغيره - ب :۔وہ اسماء جو اس کی ان صفات ازلیہ کو ظاہر کرتے ہیں جو قائم بالذات یعنی اس کی ذات القيامة :٢٤ بخارى كتاب الرد على الجهمية ، باب قول الله وَجَوَهٌ يَوْمَئِذٍ نَاظِرَة کے بنی اسرائیل ۱۱۱ و الحشر : ۲۵