تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 313 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 313

تاریخ افکارا سلامی FIF تیاری کو ذریعہ کامیابی سمجھ لیا گیا تھا۔ان وجوہات کے باعث یہ اصلاحی تحریک مؤثر نتائج حاصل نہ کرسکی اور بے اثر ہو کر رہ گئی۔یہ لوگ بڑے مخلص تھے اور جذبہ ایثا ر بھی رکھتے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ مسلم معاشرہ کا زوال رُک جائے او را سلام کو فروغ ملے اور اس کے لئے قربانیاں بھی پیش کی گئیں لیکن کامیابی نہ ہوئی اور نہ ہی مسلم معاشرہ کا زوال رُک سکا۔یہ صورتِ حال در اصل اس طرف اشارہ تھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کورد سکنے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک بالکل نئے انداز کی عالمگیر اصلاحی تحریک کا آغاز ہو کیونکہ اتنے نیک اور مخلص عناصر جب جہاد بالسیف کی مساعی میں ناکام رہے تو اس کے صاف معنے یہ تھے کہ دین کے فروغ کے لئے اب یہ ذریعہ نہ اللہ تعالی کو منظور ہے اور نہ اُس کے ہاں مقبول اور نہ اس کے لئے وسائل مسلمانوں کو اُس کے حضور سے مہیا ہوں گے اور اس راہ میں جو بھی کوششیں ہوں گی وہ سب کی سب نا کامی کا منہ دیکھیں گی کیونکہ اب خدا یہ نہیں چاہتا بلکہ اُس کا منشایہ ہے کہ مسلمانوں کو پھر سے مسلمان بنایا جائے اور اُس دور کا آغاز ہو جو قدیم سے معتمد رتھا یعنی چون دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند اُنیسویں صدی میں بہائی تحریک کا آغاز ہوا لیکن اسلام کی کسی خدمت کی بجائے وہ اسلام کے منسوخ ہو جانے کا دعویٰ لے کر اٹھی اور اپنے مسلک اور نام ہر دو لحاظ سے اسلام اور مسلمانوں سے دور چلی گئی۔انیسویں صدی میں ہی برصغیر پاک وہند میں آزاد خیالی اور مختلف مذاہب کے درمیان بحث و مباحثہ کے دور کا آغاز ہوا۔اس وقت انگریز سارے ہندوستان پر قابض ہو چکے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومت بکلی نکل چکی تھی اور عیسائیت کی تبلیغ کا زور تھا۔دوسری طرف مغربی فلسفہ دہر بیت کے فروغ کا باعث بن رہا تھا۔اس صورت حال سے ہندوؤں نے بھی فائدہ اُٹھایا۔پر ہمو سماج اور آریہ سماج کی تحریکات کو فروغ ملا۔یہ وقت مسلمانوں کے لئے بے حد نازک تھا۔نئی حکومت مسلمانوں سے بدگمان تھی۔ہندو بھی پرانے بد لے چکانے کے لئے پر تول رہے تھے۔