تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 307 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 307

تاریخ افکارا سلامی کافر نہیں کہتے۔اس لئے یہ اس لحاظ سے ایک ہی فرقہ کی ذیلی شاخیں ہیں اور ان کا بطور فرقہ الگ الگ ذکر چنداں ضروری نہیں۔این کرام کے بعض نظریات اہل سنت کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔اس وجہ سے اسے سجستان سے نکلنا پڑا اور وہ غرجستان جا کر پناہ گزیں ہو گیا۔کئی عجمی قائد اور اہل افشین بخور مین اور اوغاد اس کے معتقد تھے جن کے سہارے یہ اپنے عقائد کے فروغ میں کوشاں رہتا تھا۔مشہور فاتح ہند سلطان محمود دغه نوی بھی گرامی فرقہ سے عقیدت رکھتا تھا لے این کرام کے مخصوص نظریات مندرجہ ذیل تھے ا خدا کا جسم ہے۔لَا كَالَا جُسَامِ وَ بِلا كَيْفِ سے اس کا جو حصہ عرش سے متصل اور ملاقی اور محدود ہے آئی عَرْضُهُ كَعَرْضِ الْعَرْشِ البتہ باقی اطراف سے خدا لامحدود ہے۔۲۔خدا جو ہر ہے جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے۔اہل السنت خدا کو جو ھر سے بالا کجھتے ہیں۔- کرامیہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ خدا امل حوادث ہے یعنی اس میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ هُوَ الْانَ كَمَا كَانَ ہے بَلْ كُلِّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانِ۔وہ کہتے ہیں کہ ازل میں خدا حوادث اور تغیرات سے خالی تھا لیکن جب اُس نے تخلیق کا ارادہ کیا تو اُس وقت سے وہ غیر محدود حوادث اور تغیرات کا مورد اور محل بن گیا اور آئند و وہ کبھی تغیرات ، حوادث اور اعراض سے خالی نہیں ہوگا۔دہر یہ اور فلاسفہ کا ہیولی کے بارہ میں بھی یہی نظریہ ہے۔أَيْ أَنَّهَا كَانَتْ فِي الْاَزْلِ خَالِيَةٌ عَنِ الْأَعْرَاضِ وَالصُّوَرِ ثُمَّ حَدَثَتِ الْاَعْرَاضُ وَالصُّوَرُ فِيهَا وَهِيَ لَا تَخْلُومِنْهَا أَبَدًا هُوَ يَتَهَوَّلُ وَيَنْتَقِلُ وَيَنْزِلُ - ۴ این کرام کا یہ کہنا بھی تھا کہ اعراض حادثہ کو نہ ہم مخلوق کہہ سکتے ہیں۔اس لئے قرآن جو کلام اللہ ہے مخلوق ہے اور نہ محدث۔↓ قد اثنى عليه ابن خزيمة وابوسعيد عبدالرحمن بن الحسين الحاكم وهما اماما الشافعية والحنفية تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۲۰۹ بحواله طبقات الشافعية صفحه ۳۱) له تعالى جسم لا كالاجسام ويد لا كالايدى و وجه لا كالوجوه (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۲۱۱ بحواله الملل والنحل جلد اوّل صفحه (۱۶۲)