تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 276 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 276

تاریخ افکا را سلامی 121 تک بے حد نقصان اٹھایا۔قرامطہ ابن القاسم او رابو طاہر کی قیادت میں حاجیوں کے قافلوں پر حملہ کرتے ، ان کے اموال لوٹ لیتے اور قتل و غارت سے باز نہ آتے۔۳۱۷ھ میں ابو طاہر قرمطی نے حج کے ایام میں مکہ پر حملہ کیا اور حاجیوں کو بکثرت قتل کیا، ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا، پھینکڑوں نعشیں چاہ زمزم میں پھینکوا دیں، اموال لوٹ لئے اور حجر اسود کوا کھیٹر کر اپنے ساتھ الاحساء لے گیا۔اس وجہ سے سارا عالم اسلامی مل گیا، پخت شور پڑا۔فاطمی خلیفہ نے بھی اس حرکت کا بُرا منایا اور ابو طاہر کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود واپس کر دے اور اس کے لئے پچاس ہزار دینار بطور معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش بھی کی لیکن قرامطہ حجر اسود کی واپسی پر راضی نہ ہوئے۔آخر ہر طرف سے زور پڑنے اور بعض صوفیائے وقت کی کوششوں کی وجہ سے قریباً بائیس سال کے بعد ۳۳۹ھ میں حجر اسود واپس کرنے پر قرامطہ مجبور ہو گئے لے باطنی تحریکات نے ملتان اور اس کے گردو نواح میں بھی خاصہ فروغ پایا لیکن سلطان محمود غزنوی نے ملتان اور اس کے گردو نواح پر جب حملے کئے تو ان تحریکات پر بھی زد پڑی۔کہا جاتا ہے کہ سلطان محمودغزنوی نے ہزاروں باطنیوں کو تہ تیغ کیا۔ایک ہزار کے قریب شورش پسندوں کے تو ہاتھ کٹوا دیئے۔اس صورت حال سے گھبرا کر جو بچے رہے و ہ یا ہندوستان کے دور کے علاقوں مثلاً جنوبی ہند یا اس کے شمالی علاقوں کی طرف بھاگ گئے۔تَنقُلُ، تَقَمُّصُ اور تناسخ کے بارہ میں چند نظریات روافض اور معتزلہ کے بعض فرقے تاریخ کے قائل ہیں اور اس بارہ میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔تناسخ کے بنیادی معنے یہ ہیں کہ مرنے کے بعد انسانی اور حیوانی روح فنانہیں ہوتی بلکہ مختلف جونوں اور قالبوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور اس طرح مختلف حیوانی شکلیں اختیار کر کے دنیا میں ہمیشہ موجود رہتی ہے۔بہر حال بعض نے تاریخ کی یہ عمومی تعریف کی ہے۔تَنَقُلُ الْأَرْوَاحِ فِي الْأَجْسَام اس قسم کے تاریخ کے قائل بعض شیعہ فرقوں کا ذکر گزشتہ صفحات میں بھی آچکا ہے۔آئندہ صفحات میں بعض ایسے فرقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو نظریہ تاریخ کی ایک خاص انداز سے تشریح کرتے ہیں مثلاً : تاريخ الجميعات السرية صفحه ۳۶ ۳۷ - الفرق بين الفرق صفحه ۲۱۹ الفرق بين الفرق صفحه ۲۲۱