تاریخ افکار اسلامی — Page 254
تاریخ افکارا سلامی ۲۵۴ عباسیہ کے دوسرے خلیفہ ابو جعفر منصور نے مؤسس دولت عباسیہ ابو مسلم خراسانی کو قتل کر کے اوراق تاریخ میں محبت کی تھی اور دونوں کے حامیوں کا رد عمل بھی ایک جیسا تھا۔بہر حال عبید اللہ المہدی نے بڑی حد تک اپنی حکومت کو سنبھال لیا۔اُس کی وفات کے بعد ابولقاسم محمد القائم دولت عبید یہ کا خلیفہ بنا اُس کے بعد المنصو را در اُس کے بعد المعز دولت فاطمیہ کے سربراہ مقرر ہوئے۔المین کے عہد حکومت میں اُس کے قابل حمد نیل جوہر کے ہاتھوں مصر فتح ہوا۔یہ ۳۵۸ ھ کا واقعہ ہے۔المعز جب فتح مصر کی تیاریوں میں تھا تو ایک روز جبکہ شدید سردی پڑ رہی تھی اور سخت طوفان کا سماں تھا اس نے اپنے ارکان دولت اور شیوع گنامه کو اپنے محل میں بلوایا اور ان کے سامنے تقریر کی کہ آپ لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ ایسے سرد اور طوفانی دن میں میں عیش و عشرت، شراب و کباب اور رقص و سرود میں اپنا وقت گزار رہا ہوں گا حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے گر دکتابوں اور خطوں کا ڈھیر ہے، قلم اور دوات رکھی ہے اور مخط و کتابت اور علم کے سمندر میں کو یا غرق ہوں۔بڑی سادہ زندگی بسر کرتا ہوں تم بھی وہی کرو جو میں کرتا ہوں۔تکمر اور تبختر کو ترک کر دو۔دوسروں پر رحم کرو نا اللہ تعالی بھی تم پر رحم کرے۔عیش میں نہ پڑو۔ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو تا کہ تمہارے قومی مضبوط رہیں، تمہاری قوت قائم رہے۔میری مدد کرو تا کہ ہم مشرق یعنی مصر میں بھی اُسی طرح غالب آئیں جس طرح ہم خرب میں غالب ہوئے ہیں تا کہ ہر طرف سلامتی، امن و امان اور عدل وانصاف کا دور دورہ ہو کیونکہ عدل وانصاف حکومت کی بنیاد ہے سے غرض اس طرح کی وعظ و تلقین اور ا منگ ویقین کے ساتھ المسعر نے مصر کی طرف فوجیں روانہ کیں مصر کے حالات یوں بھی دگرگوں تھے اس لئے بہت معمولی مقابلوں کے بعد المعز کی فوجوں نے مصر فتح کرلیا۔۳۶۱ھ میں المعز نے فاطمی خلیفہ المنصور کے بہائے صدر مقام المنصوریہ سے کوچ کیا جو شمال مغربی افریقہ کے مشہور شہر قیروان کے نواح میں تھا۔اور القاہرہ میں آکر قیام کیا جو اُس کے جرنیل جو ہر نے دار الحکومت کے طور پر بسایا تھا۔مصر کے حالات کو درست کرنے کے بعد المعز نے آہستہ آہستہ اپنا اثر و رسوخ شام، یمن اور حجاز کی طرف بڑھایا یہ علاقے پہلے سے ہی مصر کی نگرانی میں تھے اور ان دنوں رومیوں کی نظریں ان علاقوں خصوصاً شام پر لگی ہوئی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ وہ دولت عباسیہ کی جگہ لیں العدل اساس الملك تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ١٣٦)