تاریخ افکار اسلامی — Page 189
تاریخ افکار را سلامی ۱۸۹ آپ کے دوسرے مشہور شاگر دمجد الدین بن عمر ہیں جو ابن دحیہ کے نام سے مشہور ہیں اور بڑے پائے کے فقیہ اور محدث شمار ہوتے ہیں۔آپ مشہور صوفی محی الدین ابن عربی کے ہم عصر تھے۔ابن عربی بھی عبادات میں ظاہری المذہب تھے اور اعتقادات اور الہیات میں باطنی النظر اور صوفی المشرب تھے۔ابن دحیہ کے زمانہ میں اندلس کا اقتدار موحدین کے ہاتھ میں تھا جن کے ایک امیر یعقوب بن يوسف بن عبد المؤمن نے ظاہری مذہب قبول کر لیا تھا۔اس کے زمانہ میں مالکیوں ومن نے ظاہر پر خاصی سختی ہوئی ہے امام ابن حزم نے دنیوی علوم کے بارہ میں جو کتب لکھیں ان میں منقلی استدلال سے خوب خوب اور بکثرت کا م لیا ہے۔ان کتب میں سے مندرجہ ذیل کافی مشہور ہیں۔الْفَضْلُ بَيْنَ الآرَاءِ وَالَا هَوَاءِ وَالنَّحل۔اس میں مختلف فرقوں کے نظریات اور ان کی آراء کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی طرف سے تنقید بھی کی ہے۔كتاب الإمامة والسياسة - كتاب اخلاق النفس - طوق الحمامة تحلیل نفسی اور اخلاق سے متعلق بڑی عمدہ بحث پر مشتمل ہے۔مداوة النفوس - نفوس کی بیماریوں اور اُن کے علاج کے ذکر پر مشتمل ہے۔اخلاق کی فلسفیانہ تو جید پیش کی گئی ہے۔بحث کی بنیا داستقراء اور تقع پر رکھی ہے اور ساتھ ساتھ فلاسفہ یونان کے نظریات کو بھی پیش کرتے گئے ہیں۔نقليات یعنی فقہی نصوص و مذاہب سے متعلق آپ کی مشہور کتابوں میں سے چند کے نام یہ ہیں۔الا حكام في أصول الاحکام۔اس میں مذاہب فقہیہ کے اُصول کو زیر بحث لایا گیا ہے اور موازنہ پیش کر کے مسلک ظاہری کی تائید کی گئی ہے۔الہذا سی کتاب کا خلاصہ ہے۔جل الله ذكر صاحب كتاب المعجب امر يعقوب باحراق کتب مذهب مالک مثل مدونه سحنون و واضحه ابن حبيب وغيرهما من كتب المالكية بعد ان جرد ما فيها من احاديث رسول الله والقرآن (محاضرات صفحه ۴۳۷ ملخصا )