تاریخ افکار اسلامی — Page 152
تاریخ افکار را سلامی ۱۵۴ روایت ہیں اور اقوال جدیدہ" کے نام سے مشہور ہیں۔یہ دور جس میں امام شافعی اپنے مسلک کی تعبین و وضاحت کر رہے تھے تدوین علوم کا دور تھا اگر ایک طرف ابو الاسود ڈولی کے شاگر د عربی زبان کے قواعد وضوابط کی تدوین میں مصروف تھے تو دوسری طرف الاصمعی اور ان کے شاگر دا دب ولغت کے ذخائر اور اشعار عرب کے دیوان جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔خلیل عالم عروض ایجاد کر چکا تھا۔جاحظ ادب عربی کی تنقید و تنقیح کے اصول بیان کر رہا تھا امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی حنفی فقہ کی تدوین میں مصروف تھے۔مدینہ میں امام مالک کے علوم کا غلغلہ تھا۔احادیث کی روایت کو ایک فن کی حیثیت حاصل ہورہی تھی۔مختلف فرقے علمی طور پر منظم ہو رہے تھے۔خوارج ،شیعہ اور معتزلہ دست وگر بیان تھے اور مناظرات و مجادلات کا ہر طرف شور تھا۔اس علمی فضا میں امام شافعی بھی راہ حق کی تلاش میں مصروف تھے۔آپ نے اخبار احاد کی حجیت کے بارے میں زبر دست دلائل مہیا کئے اور اُمت کی طرف سے نا صر سنت“ کا خطاب پایا۔عِلل قیاس کے استخراج میں اگر چہ حضرت امام ابو حنیفہ کا مقابلہ کوئی نہ کر پایا لیکن امام شافعی امام ابویہ مقابلہ کوئ نہ کر امام نے قیاس کے اصول وضوابط کے سلسلہ میں جو منفرد کام کیا اُس کا اپنی جگہ الگ مقام ہے۔لے آپ نے اس بات کو واضح کیا کہ اگر چرا اخبار آحاد اور قیاس علیم ظنی کے ماخذ ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔ہم اتنے ہی ان کے مکلف ہیں اور تمام انسانی زندگی اسی علیم خلقی کے گرد گھومتی ہے۔پس جب ہم اپنے اکثر مسائل زندگی اسی علم کے بنا پر حل کرتے ہیں تو شرعی امور میں ان سے کام لینا کیوں تر دو کا باعث ہوئے۔آپ کا کہنا تھا کہ اول تو قرآن واحادیث سے اکثر مسائل کا حل مل سکتا ہے۔لیکن اگر کسی مسئلہ کے بارہ میں اُن میں تصریح نہ ملے تو مسئلہ زیر بحث کو اُن علل پر قیاس کیا جا سکتا ہے جو نصوص میں موجود ہوتی ہیں اور ایک ذہین مستند بآسانی اُن تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔احادیث کے بارہ میں آپ کا علم بڑا وسیع تھا۔ایک دفعہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور ل الامام الشافعي صفحه ۱۳۸، ۱۴۴،۱۳۹، ۲۱۴۰۱۴۷ مزید تفصیل کے لئے دیکھیں الامام الشافعی صفحه ۹۲ ۱۲۳ تا ۱۲۸، ۱۹۸، ۲۳۸ محاضرات ۲۸۵