تاریخ افکار اسلامی — Page 148
تاریخ افکا را سلامی الدي سارے عرب میں سند مانے جاتے تھے۔آپ نے ہذیل سے اعلیٰ عربی بھی سیکھی اور تیراندازی کا سبق بھی حاصل کیا۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ تیراندازی میں میرا مقابلہ کوئی مشکل سے ہی کر سکتا ہے اگر دس تیر نشانے پر لگانا چاہوں تو ایک بھی خطا نہ جائے۔آپ نے اس دوران علم نجوم اور علم طب سے بھی واقفیت بہم پہنچائی۔آپ بہت اچھے شعر کہہ لیتے تھے اور اعلیٰ پایہ کے ادیب مانے جاتے تھے۔زبان کی اس مہارت کا اثر آپ کی تحریر میں بھی تھا اسی لئے آپ کی کتب عربی ادب کا ایک نمونہ کبھی جاتی ہیں حالانکہ وہ بجائے خوفنی کتب ہیں فقہ کے مباحث اور اُصول کی تشریحات سے تعلق رکھتی ہیں۔امام شافعی بڑے خوش الحان بھی تھے آواز میں بڑا سوز تھا۔جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو رقت سے لوگوں کے آنسو رواں ہو جاتے۔سلیس عربی بولتے اور بڑی روانی کے ساتھ تقریر کر سکتے تھے۔تقریر میں ضرب الامثال سے خوب کام لیتے۔مشہور محدث ابن راہویہ نے آپ کو خطیب العلماء کا خطاب دیا تھا۔لے جب آپ کی عمر میں سال کی ہوئی اور علماء مکہ سے علم پڑھ لیا تو آپ کی خواہش ہوئی کہ مدینہ جا کر عالم مدینہ حضرت امام مالک سے موطا پڑھیں اور علم حدیث میں مہارت حاصل کریں۔یہ زمانہ امام مالک کے عروج کا تھا اور بڑی مشکل سے آپ کے مدرسہ میں کسی کو داخلہ مل سکتا تھا۔آپ نے اپنے آپ کو امام مالک کے درس میں شمولیت کے قابل بنانے کے لئے خوب محنت کی۔کسی سے موطا کا ایک نسخہ لے کر اُس میں درج احادیث کو یا د کیا۔والی مکہ سے والی مدینہ کے نام سفارشی چٹھی لکھوائی اور اس تیاری کے ساتھ مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوئے۔مدینہ پہنچے تو والی مدینہ کی سفارش کچھ کام نہ آئی لیکن اپنی قوت بیانیہ کے زور سے مالک کے درس میں بیٹھنے کی اجازت حاصل کر لی اور پھر اپنی قابلیت اور شوق حدیث کی وجہ سے مالک کی توجہ کا مرکز بن گئے۔قریبا دس سال آپ کی خدمت میں رہے۔دینہ کے دوسرے علماء سے بھی استفادہ کیا اور ماہر عالم حد میث اور ایک بے مثل فقیہ کی حیثیت سے علوم مدنیہ کے حامل بنے۔+ ا كان الشافعي فصيح العبارة واضح التعبير قوى التاثير بارزا في البلاغة و البيان و القدرة على المناظرة حتى قيل في حقه خطيب العلماء الامام الشافعی صفحه ۱۳۳،۶۰۰۵۵۰۵۰،۴۳، ۱۸۷) محاضرات صفحه ۲۶۹ ملخصاً