تاریخ افکار اسلامی — Page 129
تاریخ افکا را سلامی ۱۳۹ کے بعد اُس شخص کی جائیداد قاضی کے قبضہ میں آگئی۔امام صاحب جب آئے تو انہوں نے نالش کی اور قاضی کے سامنے صورت حال کی وضاحت کی چنانچہ گواہوں نے گواہی دی کہ واقعی اس شخص نے ان کے سامنے ابو حنیفہ کے حق میں وصیت کی تھی۔اس پر قاضی نے امام صاحب سے کہا کہ کیا آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ گواہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بیچ ہے۔امام صاحب نے جواب دیا کہ میں خود موقع پر موجود نہ تھا تم کیسے کھا سکتا ہوں۔قاضی نے کہا تو بس آپ مقدمہ ہار گئے۔بڑے قیاس مشہور تھے۔آپ نے جب دیکھا کہ قاضی اُن کی اہلیت قیاس کا امتحان لے رہا ہے تو آپ نے قاضی سے کہا ایک اندھے آدمی کو کوئی شخص مارتا ہے زخمی کرتا ہے گواہ گواہی دیتے ہیں کہ اس اندھے کو فلاں شخص نے مارا ہے اور ہم اس وقت وہاں موجود تھے اور اُسے مارتے ہوئے دیکھ رہے تھے کیا آپ اندھے کو قسم دلائیں گے کہ گواہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے۔قاضی امام صاحب کی حاضر جوابی اور قوت قیاس کی مثال دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا اور امام صاحب کے حق میں فیصلہ صادر کیا ہے کوفہ میں ایک دیوانی عورت اُم عمران بازار میں اِدھر اُدھر گھومتی رہتی تھی ایک شخص نے اسے چھیڑا اور تنگ کیا وہ غصہ سے بے قابو ہو کر گالیاں دینے لگی اور اُسے ” يَا ابْنَ الزَّانِيَنِ “ کا طعنہ دیا کہ تم دو زانیوں کی اولا د ہو تمہارا باپ بھی زانی اور تمہاری ماں بھی زانی۔یہ واقعہ جامع مسجد کے بازار میں ہوا تھا اور کوفہ کے قاضی ابن ابی لیلی خود اس ہنگامہ کو دیکھ رہے تھے۔انہوں نے عورت کو پکڑ لینے کا حکم دیا اور سزا کے طور پر اُسے ڈیل کوڑے لگوائے۔امام ابوحنیفہ کو جب اس فیصلہ کا علم ہوا اور غریب عورت پر ظلم کے بارہ میں سنا تو آپ سے رہا نہ گیا۔فیصلہ پر تنقید کی اور فرمایا قاضی سے اس فیصلہ میں کئی غلطیاں ہوئی ہیں مثلاً یہ کہ: - سیگورت دیوانی ہے اور دیوانہ مرفوع القلم ہوتا ہے اُسے سزا نہیں دی جاسکتی۔- مسجد کے اندر سزا دی ہے وَالحُدُودُ لَا تُقَامُ فِي الْمَسَاجِدِ مسجدیں سزا کی جگہ نہیں۔۔جب عورت کو کوڑے لگوائے گئے تو وہ کھڑی تھی حالانکہ عورت کو بٹھا کر سزا دیتے ہیں۔کھڑا کر کے عورت کو سزا دینا منع ہے۔L محاضرات صفحه ۱۶۱