تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 121 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 121

تاریخ افکار را سلامی ۱۲۱ ہے جس میں مسئلہ ارجاء کی وضاحت کی گئی ہے۔علم فقہ کے بارہ میں آپ کے مسلک کی تفصیلات آپ کے دو لائق شاگردوں نے محفوظ کی ہیں۔یہ دونوں شاگر دتاریخ فقہ میں صاحبین " کے نام سے مشہور ہوئے۔ان میں سے ایک حضرت امام یعقوب بن حبیب الانصاری ہیں جو اپنی کنیت ابو یوسف“ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔دوسرے حضرت امام محمد بن حسن الشیبانی ہیں۔امام ابو یوسف ہارون الرشید کے عہد میں قاضی القضاۃ کے عہدہ پر فائز تھے جو خلافت عباسیہ میں ایک معزز عہدہ تھا اور آپ ہی پہلے شخص ہیں جو اس عہدہ پر فائز ہوئے اور قاضی القضاہ کے لقب سے شہرت پائی۔آپ نے دولت عباسیہ میں جو قاضی مقرر کئے وہ زیادہ تر حنفی المسلک تھے جس کی وجہ سے ساری مملکت میں حنفیوں کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔امام ابن حزم الاندلسی کہا کرتے تھے کہ دو فقہی مذہبوں نے حکومت کی سرپرستی میں ترقی کی۔خلافت عباسیہ میں حنفیت کو ترقی کا موقعہ ملا اور خلافت ہسپانیہ میں مالکی مذہب پروان چڑھا۔ایک وقت میں جبکہ مصر اور شام میں ایوبی بر سر اقتدار تھے اور ماوراء النہر میں سلطان محمود سبکتگین کی حکومت تھی شافعیوں کی پوزیشن بھی یہی تھی اور شافعیت سرکاری مذہب تھائیے۔حضرت امام ابو یوسف ، صاحب تصنیف بھی تھے۔آپ کی تصنیف کتاب الخراج " کو بہت زیادہ شہرت ملی۔اسی طرح آپ کی دوسری تصنیف کتاب " آلا نار " اور رسالہ "اختلاف ابن ابی لیلی اور الرد على بر الأوزاعي " بھی مشہور ہیں۔امام ابو یوسف 183 ھ میں فوت ہوئے۔آپ نے بے شمار دولت ترکہ میں چھوڑی۔آپ کی وصیت تھی کہ آپ کے ترکہ سے ایک لاکھ درہم مکہ کے غرباء میں اور ایک لاکھ مدینہ کے مستحقین میں اور ایک لاکھ بغداد کے حاجتمندوں میں تقسیم کئے جائیں اور ایک لاکھ اس شہر کے لیے مختص ہو جہاں ان کا بچپن گزرا جہاں انہوں نے دولت علم حاصل کی اور جس کے رہنے والے ایک غریب درزی کے بیٹے کو اللہ تعالی نے به عظمت بخشی یعنی یہ ایک لاکھ کی رقم کو فہ کے ضرورتمندوں میں تقسیم کی جائے۔ہے امام ابو حنیفہ کے دوسرے لائق شاگرد، امام محمد بن حسن الشیبانی تھے آپ بھی قاضی رہے لیکن L۔۔ابو حنیفه صفحه ۱۰۵ و مالک بن انس صفحه ۲۷۱ ابوحنیفه صفحه ۱۰۸