تاریخ افکار اسلامی — Page 112
تاریخ افکا را سلامی جس کا نام فالودہ تھا اور کابل کے لوگ اس کے بنانے میں ماہر تھے حضرت علی کی خدمت میں نذر کیا۔آپ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام ثابت رکھا اور اس کی کامیاب زندگی اور مبارک ذریت کے لیے حضرت علی سے دعا کرائی۔امام ابو حنیفہ طویل القامت، کھلا اور بشاش چہرہ ، کھلتا سفید گندمی رنگ ، گھنی داڑھی، وضع قطع کے لحاظ سے بڑے خوش پوش، صاف ستھرے رہن سہن کے مالک بزرگ تھے اور ہمیشہ خوش رہنے والے مطمئن مزاج صابر و شاکر عالم سمجھے جاتے تھے لے آپ کے دادا زوطی نے کوفہ آکر کپڑے کا کاروبار شروع کیا اور اس میں خوب ترقی کی۔یہ تجارتی کاروبا را امام ابو حنیفہ کو ورثہ میں ملا۔آپ بھی تجارت کا بڑا گہرا ملکہ رکھتے تھے۔بچپن سے ہی اپنے والد ثا بت کے ساتھ کام کاج میں حصہ لینے لگے۔پھر جب آپ پر پورا بوجھ پڑا تو آپ نے اپنی ذمہ واری کو بجھتے ہوئے نہ صرف کا روبار کو سنبھال لیا بلکہ اس کو مزید ترقی دی۔اس زمانہ میں کپڑے کی ایک مشہور قسم بہت پسند کی جاتی تھی۔اس کا نام خزن تھا اور خوب بکتا تھا۔ریشم اور اون کی ملاوٹ سے بنتا تھا۔آپ نے اس کپڑے کے بنانے کی کھڈیاں لگوائیں اور شرکت کے اصول پر کاروبارکو چلایا۔مختلف شہروں میں اس کی ایجنسیاں قائم کیں جہاں آپ مال بھجواتے اور خوب منافع کماتے۔تجارتی مہارت کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی رقمیں کاروبار میں لگانے یا محفوظ رکھنے کے لیے آپ کو دیتے رہتے۔ایک دفعہ آپ نے ایک نو جو ان کو ایک لاکھ ستر ہزار درہم بھجوائے اور کہا کہ تمہارے والد کی یہ رقم میرے پاس تھی جو وہ وفات سے پہلے واپس نہیں لے سکے تھے۔اسی طرح تاریخ نے اس واقعہ کا بھی ذکر کیا ہے۔جب آپ فوت ہوئے تو پچاس ہزار کے قریب ایسی رقمیں آپ کے پاس لوگوں کی تھیں سے جو وفات کے بعد واپس ہوئیں۔بہر حال مالی لحاظ سے امام ابو حنیفہ بڑے خوشحال تھے اور آپ کو کبھی بھی کسی قسم کی مالی پریشانی سے دوچار نہیں ہونا پڑا تھا۔امام ابو حنیفہ اور علم جیسا کہ ذکر آچکا ہے آپ شروع سے ہی ہوش سنبھالتے ہی تجارتی کاروبار سے متعلق ہو گئے تھے ابو حنيفه صفحه ۱۰ کے ابوحنيفه صفحه ۳۸