تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 84 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 84

تاریخ افکار را سلامی ۸۴ ۲۔قتل خطاء کی دیت سو اونٹ ہے یا صحابہ کے وقت کے لحاظ سے ان کی قیمت آٹھ ہزار در ہم تھی اور یہ دیت قاتل کے عاقلہ (جدی پشتی قبیلہ کے لوگ ) ادا کرتے تھے۔حضرت عمر کے زمانہ میں حالات بدل گئے اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی اور عاقلہ کی تعیین میں بھی تبدیلی آگئی۔چنانچہ آپ نے قیمت بھی بڑھا دی اور عاقلہ اس لشکر کو قرار دیا جس میں قاتل کام کرتا تھا اور جن کی فہرست میں اس کا نام درج تھا۔ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی بھی اجتہاد کی بنا پر ہوئی۔کوئی خاص معین ہے کہ یہ بناپر ہوئی۔کوئی نص تو سامنے نہ تھی لے - تسعیر کی اجازت نہیں تھی۔تاجروں اور صارفین کے با ہمی غیر شعوری تعاون کی بنا پر بھاؤ چلتے ہیں لیکن تابعین کے زمانہ میں تاجروں نے زیادتی شروع کر دی اور صارفین کے لئے پریشانی بڑھ گئی تو تابعین نے پبلک مصلحت کی بنا پر تسعیر کی اجازت کا فتوی دیا یعنی یہ فتقومی که حکومت تاجروں اور صارفین دونوں کی بہبود کو مد نظر رکھ کر کسی چیز کا مناسب بھاؤ مقرر کر سکتی ہے۔نص تو بظاہر اس کے خلاف تھی لیکن پبلک مصلحت کے پیش نظر نص کی تحدید ضروری کبھی گئی۔ایک دفعہ امام شافعی نے اپنے شاگر دا بوثو رسے پوچھا نماز کا آغاز فرض سے ہوتا ہے یا سنت سے؟ ابونو ر درست جواب نہ دے سکے تو آپ نے وضاحت فرمائی کہ نماز کا آغا ز فرض اور سنت دونوں سے بیک وقت ہوتا ہے تکبیر تحریمہ فرض ہے اور رفع یدین یعنی کانوں تک ہاتھ اٹھانا سنت ہے اور یہ دونوں کام بیک وقت کرنے ہوتے ہیں ہے بہر حال اجتہاد کا عمل اپنی جگہ ضروری ہے کوئی ہوش مند اس کا انکار نہیں کر سکتا لیکن اس مسئلہ میں ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر دیا گیا جس کی وجہ سے اُمت مسلمہ ایک بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوئی اور اس کے باہمی اختلاف بڑھے۔وہ پہلو جسے نظر انداز نہیں ہونا چاہیے تھا وہ اجتماعی اجتہاد اور شورائی نظام اور اس نظام کے احترام اور دوام کا پہلو تھا لیکن جس طرح خلافت راشدہ کی اہمیت اور اس کے احترام کو نظر انداز کیا گیا اسی طرح اجتماعی اجتہاد بھی جس پر صحابہ کا ر بند تھے احل عمر اهل الديوان محل العاقلة في التزام بالمية (مالک بن انس صفحه (۲۰۶) اجازوا السعير لنظرية جلب مصلحة ودرء مفسلة - (مالک بن انس صفحه ۲۱۱، الامام الشافعي صفحه ۲۰۹) کے الام الشافعی صفحه ۱۴۳