تاریخ افکار اسلامی — Page 83
تاریخ افکا را سلامی AF کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔انسان اس کے جاننے کا مکلف نہیں۔قاضی اور بیج گواہوں کی بنا پر فیصلہ دیتا ہے وہ ان کے ظاہری حالات دیکھتا ہے اور ان کے صدق پر اعتبار کر کے فیصلہ کرتا ہے اور ملزم کو سز اسناتا ہے حالانکہ ممکن ہے کہ گواہ جھوٹ بول گئے ہوں اور ملزم بے گناہ ہو۔اسی طرح ایک مجتہد مختلف دلائل اور حالات کو مد نظر رکھ کر پوری دیانتداری کے ساتھ ایک رائے کا اظہار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ رائے درست ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ عند اللہ یہ رائے درست نہ ہو لیکن جب تک واضح دلائل سے یہ غلطی ظاہر نہ ہو جائے مجتہد کی رائے کو درست سمجھا جائے گا اور مجتہد پر کوئی الزام نہ ہو گا اور نہ اس رائے پر عمل کرنے والے کو گنہ گار قرار دیا جائے گا۔اسی اصل کی بنا پر کہا گیا ہے کہ قاضی اور مجتہد دیانتداری کے دائرہ میں رہ کر جو فیصلے کرتے ہیں اور جس رائے کا اظہار کرتے ہیں وہ اگر حقیقت حال کے بھی مطابق ہے تو انہیں دہرا اجر ملے گا اور حقیقت واقعہ کے لحاظ سے وہ فیصلہ غلط ہے تو انہیں ایک ثواب یعنی اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کرنے کا ثواب ملے گا لے مختلف پیش آمدہ مسائل و معاملات میں اجتہاد کی بنا پر فیصلہ دینے کی متعد دمثالیں تاریخ میں ملتی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:۔ا۔مختلف پیشہ ور جیسے درزی، رنگریز، سنار وغیرہ اصلاً امین ہیں، ان کے پاس لوگ جو کپڑے، سونا چاندی رکھ آتے ہیں کہ انہیں سی دو یا رنگ دو یا زیور بنا دو یہ مال ان کے پاس امانت ہوتا ہے اگر ان کی کسی غلطی کے بغیر ضائع ہو جائے تو وہ ذمہ دار نہیں سمجھے جاتے۔اصل مسئلہ یہی ہے لیکن حضرت عمرہ کے زمانہ میں پیشہ وروں کی کئی بد دیانتیاں آپ کے سامنے لائی گئیں اس صورت حال کو دیکھ کر آپ نے فیصلہ دے دیا کہ آئندہ یہ لوگ ذمہ دار ہوں گے سوائے اس کے کہ سبب ضیاع بڑا واضح اور سب کے علم میں ہو۔مثلاً سیلاب آیا یا نا معلوم وجہ سے آگ لگی اور بازار جل گیا۔فیصلہ کی بنیاد یہ اجتہاد ہے کہ عوام کو نقصان سے بچایا جائے۔يقول الشافعى امرنا باجازة شهادة العدل وليس للعدل تفرق بينه وبين غير العدل في بدنه ونفسه و انما علامة صدقه بما يختبر من حال نفسه۔۔۔۔فإذا ظهر حسنه قبلنا شهادته۔۔۔۔۔۔وقال عليه السلام اذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله اجران واذا حكم فاجتهد ثم اخطأ فله اجر الامام الشافعی صفحه ۲۳۲،۱۹۲)