تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 388 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 388

تاریخ افکا را سلامی FAA کہ کسر صلیب کا فریضہ سر انجام دے گا یعنی عیسائیت کی تردید میں نا قابل تردید دلائل پیش کرے گا۔اب ہم وجال کے گدھے کی حقیقت کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتے ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ دجال کا گدھا بھی حیوانی جامہ میں مافوق الفطرت خوفناک طاقتوں کا حامل ہوگا حالانکہ اس گدھے" کی جو علامات اور صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس خیال کی تردید کرتی ہیں اور نہ وہ کسی حیوان میں پائی جاسکتی ہیں۔ان صفات اور علامات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایسے تیز رفتار ذرائع سفر اور مواصلاتی وسائل کی ایجاد کی طرف اشارہ ہے جن کی مثال زمانہ ماضی میں نہیں مل سکتی ہے۔چنانچہ ریل گاڑیاں، کاریں، ہیں، بحری جہاز ، ہوائی جہاز ، مختلف قسم کے راکٹ، مصنوعی سیارے ، فضائی شعلہ اس زمانہ کی مُحَیرُ الْعُقُول ایجادات ہیں جن سے انسان حیرت زدہ ہے اور بے اختیار یکا را ٹھا ہے۔ع ریکا محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی رہا یہ سوال کی ان ایجادات کو گدھے" سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے تو اس کا ایک جواب یہ ہے کہ گزشتہ سامی ادیان میں گدھے کو اقتصادی سمبل" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جیسے بعض ہے جیسے بعض آرائی دینوں میں بیل اور گائے کو اقتصادی خوشحالی کا نشان سمجھا جاتا ہے۔۔دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایک تمثیل ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سواریاں گدھے کی مانند عقل و فہم سے عاری ہوں گی تے اور اپنے چلانے والوں کے حکم اور ارادہ کے تابع چلیں گی اور بعض کی آواز بھی گدھے کی آواز کے مانند ہوگی۔اب ہم اُن صفات کی کچھ مزید وضاحت پیش کرتے ہیں جو دجال کے گدھے کی مختلف روایات میں بیان کی گئی ہیں جن سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ کوئی مافوق الفطرت حیوانی گدھا نہیں بلکہ مشینی اور صنعتی دور کے آغاز کی ایک تعبیر ہے۔مثلاً ے ان ایجادات کو گدھے سے تعبیر کرنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایجادات حیرت انگیز کا نا مے تو سرانجام دیں گی لیکن عقل و خرد سے عاری ہوں گی۔تَكَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۲ زکریا هاب ۹ آیت ۹ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا