تاریخ افکار اسلامی — Page 341
تاریخ افکا را سلامی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس محاورے میں جان ڈال دی ہے یہ متوجہ فرما کر کہ تاریخ اس طرح دہرایا کرتی ہے کہ خدا کی کچھ سنتیں ہیں جن میں تم کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے اور بد کرداروں اور مجرموں کے حق میں وہ سنتیں اس طرح ظاہر ہوا کرتی ہیں۔اس لیے اس story کو تم کبھی بھی تبدیل نہیں کر سکتے یہ بہر حال اپنے آپ کو دہرائے گی۔تو میں دیکھتا ہوں وہ جو تائید میں بولنے والے تھے ان کے چہرے بشاشت میں کھلکھلا اٹھتے ہیں کہ ہاں اب سمجھ آئی کہ یہ مضمون کیا ہے اور جن کی طرف جو ایک صاحب اعتراض کر رہے تھے ان کے اند ربھی اعتراض میں گستاخی نہیں تھی بلکہ ایک پوچھنے کا رنگ تھا۔اُن کے چہرے پر اس طرح بثا شت تو نہیں آئی لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات سمجھ گئے ہیں۔اس رویا سے مجھے خیال آیا کہ اس مضمون کے متعلق میں آج آپ کے سامنے کچھ بیان کروں اور آپ کو دعا کی طرف متوجہ کروں کیونکہ یہ بہت انذاری رؤیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس قوم کو آج ہم مخاطب کر رہے ہیں ، جس کو ہم نے مباہلے کی دعوت دی ہے بد قسمتی سے اُن کے مقدر میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا دن دیکھنا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس طرح میرے ذریعے پیغام نہ دیتا History repeats itself اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے، مجرموں کو خدا ضرور سزا دے گا۔اس لیے وہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں یہ وہی تاریخ ہے جو دہرائی جارہی ہے جس کا ذکر خدا تعالی قرآن کریم میں بار بار ذکر فرماتا ہے فَسِيرُ وا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ اور تم خوب دنیا میں سیاحت کرو اور گھوم پھر کے دیکھو۔تم دیکھو گے کہ مکذبین کی عاقبت اُن کا انجام بہت برا ہے۔گیف میں یہ نہیں فرمایا کہ ہمرا ہے مگر جب ایک چیز بہت ہی زیادہ درجے تک پہنچ جائے تو وہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑا کرتی کے برا ہے یا اچھا ہے لفظ گیف ہی بتا دیتا ہے کہ دیکھو دیکھو کیسا اُن کا انجام ہے۔پس جب بڑی حد کو پہنچ جائے تو اس