تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 284 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 284

تاریخ افکا را سلامی الْعَجَارِدَہ کے ذیلی فرقے یہ تھے۔FAC الْخَازِمِيَّة، الشُّعَيْبِيَّة، المَعْلُومِيَّة المَجْهُولِيَّهُ، الْمَعْبَلِيَّة، الرَّشِيلِيَّهُ الْكَرَمِيَّة، الْحَمْزِيَّهُ، اَلشَّيْبَانِيَّهُ، اَلْإِبْرَاهِيْمِيَّهِ، الْوَاقِفِيَّةُ، الْمَيْمُونِيَّة۔الإباضية کے ذیلی فرقے یہ ہیں۔الشَّبيبيَّة، اَلْخَصِيصِيَّة، الْحَارِثِيَّة، الْيَزِيدِيَّهُ، الْمَيْمُونِيَّهُ - ان مندرجہ بالا فرقوں میں سے بعض کا مختصر بیان آئندہ صفحات میں پیش کیا جا رہا ہے۔خوارج کے مختلف ضمنی فرقے الْمُحَكِمَةُ الأولى خوارج کا یہ پہلا گروہ ہے جو بحیثیت فرقہ تاریخ کے صفحات میں ریکارڈ ہوا ہے۔قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ بنو يَشْكُرُ کے ایک آدمی نے تحکیم کے فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج نعرہ لگایا کہ اني قد خَلَعْتَ عَلِيًّا وَّ مُعَاوِيَةَ وَبَرِثْتُ مِنْ حَكمَيْهما کہ میں علی ، معاد بید اوران کے مقرر کردہ کھکھوں سے بیزار اورا لگ ہو گیا ہوں۔اس قسم کے خیال کے بہت سے لوگ صفین کے مقام سے واپس آکر حرورا نامی علاقہ میں جمع ہو گئے ان کی تعداد قریباً بارہ ہزار تھی۔حرود را مقام کی وجہ سے ہی خوارج کو حر دریہ کہا جاتا ہے۔یہ لوگ حروراء سے نہروان کے علاقے میں پہنچے۔حضرت علی کو جب ان کے اس اجتماع کی خبر ملی تو آپ چار ہزار کا لشکر لے کر ان کے استیصال کے لئے روانہ ہوئے۔آپ نے وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کہ وہ کیوں مخالفت پر آمادہ ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ جنگ جمل میں فتح حاصل کرنے کے بعد آپ نے شکست خوردہ لوگوں کو غلام بنانے کی کیوں اجازت نہ دی۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا۔یہ لوگ مسلمان تھے اور مسلمان کو غلام بنانا جائز نہیں۔آپ نے ان کو شرمندہ کرنے کے لئے فرمایا: اگر میں غلام بنانے کی اجازت دیتا تو عائشہ کو کس کے سپرد کرتا۔انى لَوْ اَبَحْتُ لَكُمُ النِّسَاءَ أَيُّكُمْ يَأْخُذُ عَائِشَةَ الفرق بين الفرق صفحه ۵۳