تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 177 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 177

144 ارا درود مجھے بھی جاتا ہے ا سلسلہ میں کے پاس ہوا اور میں پذ تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔اس سلسلہ میں روضہ کے پاس کھڑا ہوا شخص اور اندلس میں رہائش پذیر دونوں برابر ہیں۔بعض مسائل فلمیہ کے بارہ میں بھی آپ کا موقف مذا ہب اربعہ کے موقف سے مختلف تھا جس کی وجہ سے مقلد علماء آپ کے سخت مخالف ہو گئے مثلا: طلاق بِالْيَمِین یا طلاق معلق کے جواز کے آپ قائل نہ تھے یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میری بیوی کو طلاق۔آپ کے نزدیک اگر وہ یہ کام کر بھی لے تو اُس کی بیوی کو طلاق نہ ہوگی۔اس کے لئے انہوں نے ائمہ اہل بیت کی روایات سے استدلال کیا جو کہ اس قسم کی طلاق کے قائل نہ تھے۔اسی طرح بیک وقت دی ہوئی تین طلاق کو وہ ایک طلاق قرار دیتے تھے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسے ایک طلاق سمجھا جاتا تھا اور یہ کہ قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔آپ حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق کولغوا اور بے اثر قرار دیتے تھے۔آپ کے اس قسم کے نظریات کی وجہ سے شور بڑھ گیا۔علماء نے آپ کے خلاف فتوے دیئے اور حکام نے علماء اور عوام کی شورش سے ڈر کر آپ کو قلعہ میں نظر بند کر دیا۔آپ کے جسم کو تو قید کیا گیا لیکن وہ آپ کے نظریات اور آپ کی تحریرات کو قید نہ کر سکے۔آپ کے عقیدت مند برابر کسی نہ کسی طرح قلعہ میں پہنچتے اور آپ کے خیالات اور آپ کے رشحات قلم کی اشاعت میں کوشاں رہتے۔اس صورت حال سے چڑ کر علماء نے شور مچایا اور امیر شہر کو مجبور کیا کہ آپ کے پاس کسی کو نہ جانے دیا جائے اور آپ سے قلم دوات لے لی جائے کسی قسم کا کوئی کاغذ بھی اندرنہ جانے پائے۔یہ پابندی آپ کے لئے ناقابل برداشت تھی لیکن سب کچھ خدا کی خاطر تھا اُس کی تقدیر پر آپ راضی تھے۔آپ کی آخری تحریر کہیں سے حاصل کر وہ کوئلہ سے لکھی ہوئی آپ کی وفات کے بعد ملی۔یہی سختیاں جھیلتے جھیلتے آپ ۷۲۸ ھ میں جبکہ آپ کی عمر ستاسٹھ سال تھی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔آپ کا جنازہ قلعہ سے باہر لایا گیا۔ایک خلق کثیر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور ↓ محاضرات صفحه ۴۶۸